امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جنگی مقاصد کے حصول تک ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کیے جائیں گے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع ہوئے ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے اور اس دوران امریکی افواج نے فیصلہ کن حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی نیوی اور ائیرفورس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، متعدد رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، نظام ختم ہو چکا ہے اور ایران کی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔
عوام پر پیٹرول بم گرانے کی تیاری، فی لیٹر قیمت میں 100 روپے اضافے کا خدشہ
انہوں نے کہا کہ جنگ کا مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب ایران پہلے جیسا خطرہ نہیں رہا، جبکہ اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں اور ان کی مکمل تکمیل تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کو پتھر کے دور میں پہنچا دیا جائے گا۔
انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی اور ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا، تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت گزشتہ 47 برسوں سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتی رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امریکا نہ تو وہاں سے تیل حاصل کرتا ہے اور نہ کرے گا، جبکہ جن ممالک کو تیل درکار ہے وہ امریکا سے حاصل کر سکتے ہیں یا پھر خود آبنائے ہرمز سے لینے کے پابند ہوں گے۔ ان کے مطابق تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گی۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کو اہم ممالک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا انہیں نقصان پہنچنے نہیں دے گا اور نہ ہی کسی صورت ناکام ہونے دے گا۔
تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کئی ممالک قیمتوں میں اضافے پر پریشان تھے، جو ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر حملوں کے باعث بڑھیں، تاہم امریکا کو اب مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تیل اور گیس پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے آرٹیمس مشن کے آغاز پر ناسا کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ خلا نورد یہ مشن کامیابی سے مکمل کر کے واپس آئیں گے۔