آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کون اور کیسے بنے گا؟

آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کون اور کیسے بنے گا؟

0

آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں جانشینی کے پیچیدہ عمل کی منصوبہ بندی شروع ہو گئی ہے جس کا مقصد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق ایک عبوری لیڈرشپ کونسل تشکیل دی گئی ہے جو ملک کی قیادت کے تمام فرائض سنبھالے گی۔ یہ کونسل موجودہ صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان کونسل کے ایک رکن پر مشتمل ہے جسے ایکسپڈینسی کونسل نے منتخب کیا ہے۔

برطانیہ بھی ایران کے خلاف جنگ میں شریک ہوگیا

عبوری کونسل میں مسعود پزشکیان اور غلام حسین محسنی اژه ای شامل ہیں۔

کونسل عارضی طور پر حکمرانی کرے گی جبکہ ایران کے قانون کے مطابق 88 رکنی مجلس خبرگان جلد از جلد نیا سپریم لیڈر منتخب کرے گی۔ اس اسمبلی کے ارکان شیعہ علماء ہوتے ہیں جنہیں ہر آٹھ سال بعد عوامی انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے اور ان کی اہلیت نگہبان کونسل کی منظوری سے مشروط ہوتی ہے۔

جانشینی کے عمل کے بارے میں عمومی طور پر عوامی سطح پر مشاورت محدود ہوتی ہے جس کی وجہ سے ممکنہ امیدواروں کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ ابتدائی طور پر خیال تھا کہ سخت گیر سابق صدر ابراہیم رئیسی خامنہ ای کی جگہ لینے کی کوشش کر سکتے تھے، تاہم وہ مئی 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ اب مجتبیٰ خامنہ ای، جو 56 سالہ شیعہ عالم ہیں، ممکنہ امیدواروں میں شامل سمجھے جا رہے ہیں اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔

آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد 1989 میں قیادت کی منتقلی پہلی مرتبہ ہوئی تھی اور اب خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ دوسری مرتبہ ہے کہ سپریم لیڈر کے دفتر میں قیادت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوا ہے۔ موجودہ عبوری مرحلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ جون 2025 میں 12 روزہ جنگ بھی ہو چکی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.