چین میں فوج کے ایک انتہائی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
چینی وزارتِ دفاع کے مطابق سینٹرل ملٹری کمیشن کے سینئر نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا اور ایک اور اعلیٰ فوجی افسر لیو ژین لی کے خلاف سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے شبہات سامنے آئے ہیں، یہ اصطلاح عام طور پر بدعنوانی کے الزامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا حکومت سے فوری معاشی اصلاحات کا مطالبہ
جنرل ژانگ یو شیا چین کی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل اور طاقتور پولیٹ بیورو کے رکن بھی ہیں، جبکہ لیو ژین لی فوجی منصوبہ بندی کے شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دونوں اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چین میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف وسیع پیمانے پر مہم جاری ہے۔
چینی حکام کے مطابق دونوں افسران قانون اور پارٹی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں عہدیدار ایک اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں۔
صدر شی جن پنگ بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مہم کو بعض اوقات سیاسی مخالفین کو ہٹانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
چین میں گزشتہ برسوں کے دوران متعدد اعلیٰ فوجی عہدیدار بدعنوانی کے الزامات پر برطرف یا پارٹی سے نکالے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے اندر احتساب کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔