گلگت بلتستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے سے زرعی انقلاب آئے گا، نگران وزیراعلیٰ یار محمد
گلگت بلتستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے سے زرعی انقلاب آئے گا، نگران وزیراعلیٰ یار محمد
گلگت: نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے ای ٹی آئی (اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹیو) گلگت بلتستان کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں قابلِ کاشت زمین محدود ہے، تاہم ای ٹی آئی کے ذریعے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے اور زرعی اجناس کو منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے سے زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ اس اقدام سے مقامی سطح پر عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور گلگت بلتستان زرعی خود کفالت کی جانب گامزن ہو سکے گا۔
گاڑیوں کی خریدو فروخت کیلئے بائیو میٹرک، شہریوں کو بڑی سہولت دینے کا اعلان
نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ بنجر زمینوں کو آباد کرنے کے لیے 27 ارب روپے کا منصوبہ وفاقی حکومت اور اٹلی کی حکومت کا ایک اہم اور بڑا قدم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ زمینوں کو آباد کرنے کے بعد مقامی کسانوں کو جدید زرعی تحقیق کی بنیاد پر تربیت فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں زمین کا سوائل ٹیسٹنگ کرانا ضروری ہے تاکہ کسان موزوں زرعی اجناس اور فصلوں کا انتخاب کر سکیں۔
جسٹس (ر) یار محمد نے ای ٹی آئی گلگت بلتستان کی جانب سے مقامی کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضوں کی فراہمی کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے کسانوں کو بروقت بیج اور کھاد کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں آبادی کا انحصار زرعی شعبے پر ہے، اس لیے اس شعبے کی ترقی ناگزیر ہے۔
نگران وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اسکولوں کی سطح پر ایگری کلچر ٹیک فیلوز کے ذریعے طلبہ میں زرعی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی مہم نئی نسل میں زراعت کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس موقع پر انہوں نے غیر آباد زمینوں کی ترقی، حیثیت اور پانی کی رسائی جیسے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی مسائل کے حل سے متعلقہ زمینوں کی فوری آبادکاری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔