Gas Leakage Web ad 1

تیل،طاقت اور کرنسی: بدلتی عالمی معیشت

عابد رشید

0

خلیج فارس کی بارود سے بوجھل فضاوں سے آنے والی اطلاعات اور بدلتی صورتحال نے دنیا کے مالیاتی اعصاب میں کپکپی دوڑا دی ہے۔ اس کپکپی کی وجہ وہ معاشی ڈھانچہ ہے جو گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست اور توانائی کی تجارت کو سہارا دیے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد حالیہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے سامنے آنے والی حکمت عملی نے اسی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عالمی مالیاتی نظام فوری طور پر کسی بڑے انقلاب کی دہلیز پر کھڑا ہے مگر یہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے کہ توانائی اور کرنسی کی سیاست ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ہر فیصلہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ مالیاتی اثرات بھی رکھتا ہے۔
دنیا کی معیشت میں تیل کی اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔صنعتی ترقی سے لے کر عالمی تجارت تک ہر پہیہ توانائی کے اسی ایندھن سے گھومتا ہے۔ اسی لئے خلیج فارس کا وہ تنگ سا سمندری راستہ جسے آبنائے ہرمز کہا جاتا ہے عالمی سیاست کا سب سے حساس مقام سمجھا جاتا ہے۔محض چند کلومیٹر چوڑی اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی بے یقینی کی لہر دوڑ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس گزرگاہ پر اختیار اور رسائی ہمیشہ بڑی طاقتوں کے لئے ایک اسٹریٹجک مسئلہ رہا ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی نے اس خطے کو مسلسل عالمی خبروں کا مرکز بنائے رکھا ہے۔ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت پر دباو ضرور ڈالامگر اس کے ساتھ ساتھ تہران کو متبادل معاشی راستے تلاش کرنے پر بھی مجبور کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں چین کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ بیجنگ گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی مالیاتی نظام میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے۔ اس کی معاشی طاقت، صنعتی پیداوار اور وسیع تجارتی روابط اسے ایک ایسی پوزیشن پر لے آئے ہیں جہاں وہ عالمی تجارت کے قواعد پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس پس منظر میں توانائی کی تجارت میں کرنسی کے مسئلے کو سمجھنا ضروری ہے۔
1974 میں سعودی عرب نے امریکی فوجی تحفظ کے بدلے اپنا سارا تیل صرف” ڈالر“ میں بیچنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس دن”پیٹرو ڈالر“ (Petrodollar) پیدا ہوا اور پچھلے 52 سالوں سے دنیا کی انرجی ٹریڈ اسی پر چل رہی ہے۔ اس بندوبست نے امریکی معیشت کو ایک غیر معمولی فائدہ پہنچایا کیونکہ دنیا کے ہر ملک کو تیل خریدنے کے لئے اپنے ذخائر میں ڈالر رکھنا لازم ہو گیا ۔یوں ڈالر محض امریکہ کی قومی کرنسی نہ رہا بلکہ عالمی مالیاتی نظام کا محور بن گیا
دنیا میں تیل کا ہر بیرل ڈالر میں بکتا ہے۔ ہر ملک کے سینٹرل بینک کو اپنے ریزرو میں ڈالر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ تیل خریدنے کیلئے ڈالر لازمی ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس پر مردود امریکہ کی عالمی مالیاتی چوہدراہٹ ( Hegemony Financial) کھڑی ہے۔ اور ایران نے خلیج کے سب سے اہم چوک پوائنٹ پر اسی چوہدراہٹ کو چینی یوآن سے بدلنے کی پیشکش کر دی ہے!
عالمی طاقتوں کے توازن میں تبدیلی کے ساتھ اس نظام پر سوالات بھی اٹھنے لگے۔ چین، روس اور بعض دیگر ممالک نے گزشتہ چند برسوں میں ان کوششوں کو تیز کیا ہے کہ بین الاقوامی تجارت میں مقامی یا متبادل کرنسیاں استعمال کی جائیں۔ اس دوران چین نے اپنے مالیاتی اداروں اور ادائیگی کے نظام کو اتنا مضبوط بنا لیاکہ وہ عالمی تجارت میں یوآن کو زیادہ موثر بنا سکے۔ اگرچہ ڈالر کی بالادستی اب بھی بہت مضبوط ہے مگر عالمی معیشت میں نئی قوتوں کے ابھرنے سے کرنسی کے نظام میں بتدریج تبدیلی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔
ایران کے لئے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور ضرورت بھی…مغربی پابندیوں نے تہران کو ڈالر کے عالمی مالیاتی نظام تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرایا تو جواب میں ایران نے چین اور چند دیگر ممالک کے ساتھ توانائی کی تجارت میں متبادل طریقے اختیار کرنا شروع کئے
بعض اطلاعات کے مطابق ایرانی تیل کی ایک بڑی مقدار پہلے ہی چینی منڈی میں جاتی ہے اور اس تجارت میں مختلف مالیاتی انتظامات استعمال کئے جاتے ہیں جن میں یوآن یا دیگر ادائیگی کے طریقے شامل ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جس نے عالمی تجزیہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ توانائی کی تجارت مستقبل میں زیادہ متنوع مالیاتی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ کشیدگی نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔ اگر اس خطے میں توانائی کی نقل و حمل کو کسی خاص مالیاتی یا سیاسی شرط کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کے اثرات صرف علاقائی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مالیاتی نظام کے درمیان گہرا تعلق ہے اس لئے ہر بڑی جیوپولیٹیکل پیش رفت عالمی منڈیوں میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہے۔ اسی لئے توانائی کی سیاست اکثر “جیو اکنامکس” کی سب سے واضح مثال سمجھی جاتی ہے۔
اس پورے کھیل میں چین کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے دنیا کی سب سے بڑی توانائی درآمد کرنے والی معیشت ہونے کے ناطے چین کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ توانائی کی عالمی تجارت کے رجحانات پر اثرانداز ہو سکے۔ اگر طویل مدت کیلئے زیادہ سے زیادہ توانائی یوآن میں خریدنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے تو اس سے عالمی مالیاتی نظام میں ایک تدریجی مگر معنی خیز تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کی تبدیلی کسی ایک فیصلے یا ایک بحران سے نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔
ایرانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ حالات اسے ایک ایسی سفارتی پوزیشن فراہم کرتے ہیں جس میں وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو معاشی فائدے میں تبدیل کرلے۔ خلیج فارس میں اس کا محل وقوع اسے ایک سٹریٹجک برتری دیتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے قریب اس کی موجودگی توانائی کی عالمی سپلائی چین کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی موجودہ حکمت عملی ایک ایسی معاشی و جنگی چال ہے جس سے وہ win win پوزیشن میں آگیا ہے…. اس نے اپنے لئے معاشی اور سیاسی گنجائش پیدا کر لی ہے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس بحث کو جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ تناظر میں دیکھا جائے۔ ڈالر کی عالمی بالادستی صرف تیل کی تجارت کی وجہ سے قائم نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاری کے ڈھانچے اور بینکاری نظام کی کئی دہائیوں پر محیط بنیادیں موجود ہیں۔ اسی لئے کسی ایک واقعے یا محدود مالیاتی تجربے کو فوری طور پر اس نظام کے خاتمے سے جوڑنا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب ایک ایسا رجحان ابھر رہا ہے جس میں بڑی طاقتیں اپنی معاشی خودمختاری بڑھانے کے لئے متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں۔
خلیج فارس کی موجودہ صورتحال اسی بڑی تبدیلی کا ایک اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر عالمی توانائی تجارت میں مختلف کرنسیوں کا استعمال بڑھنے لگے تو مستقبل میں ایک زیادہ متوازن مالیاتی نظام وجود میں آ سکتا ہے جہاں ایک ہی کرنسی کی مکمل اجارہ داری نہ ہو۔ اس عمل کو بعض ماہرین عالمی معیشت کے “کثیر قطبی دور” کی علامت قرار دیتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ طاقت کا ہر نظام ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ سلطنتیں، مالیاتی ڈھانچے اور سیاسی اتحاد وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تبدیلیاں اچانک دکھائی دیتی ہیں مگر درحقیقت ان کی بنیادیں برسوں پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ خلیج فارس میں جاری کشیدگی اور توانائی کی سیاست میں کرنسی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اسی وسیع تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں عالمی توانائی تجارت کا نقشہ کچھ مختلف ہواور ممکن ہے کہ موجودہ نظام اپنی مضبوط بنیادوں کے باعث مزید کچھ عرصہ برقرار رہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ عالمی معیشت کا کھیل اب صرف تیل کے کنوو ¿ں اور سمندری راستوں تک محدود نہیں رہا بلکہ کرنسیوں کی خاموش جنگ بھی اس کے اندر پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.