مودی بابو تم کیا جانو لہو سے بنے سندور کی قیمت!!!
مودی بابو تم کیا جانو لہو سے بنے سندور کی قیمت!!!
مودی بابو تم کیا جانو لہو سے بنے سندور کی قیمت!!!
تحریر:نوشابہ یعقوب راجہ
آسمان پر یہ قابل رشک منظر دیکھ کر
میرا امت مسلمہ کے مجروح ہوتے وقار
کے لیے برسوں سےویراں اور جلتے دل
کی یہ کیفیت ہے ۔ جیسے مدتوں بعد
ویرانے میں بہار آئی ہو، جیسے کوئی
باد نسیم چلی ہو ،جیسے دل کو مدتوں
بار دھڑکنا آگیا ہو ،جیسے اک امید ،جیسے
اک روشنی امت کے عروج کی اس دھوئیں
میں دکھائی دی ہو۔
مدت سے امت کو اس اوج ثریا پر دیکھنے کا ارمان تھا ۔جہاں سے گر کر ہم تماشہ زمانہ بنے ہیں۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا
مگر اک مدت بعد ایک بار آنکھوں نے قابل رشک مناظر دیکھے!!!
میرے رشک آسمان شاہینوں نے جیسے اپنی کامیابی اور فتح کے جو جھنڈے گاڑے ہیں وہ قابل رشک ہیں۔آسمان میں سچ پوچھو تو صبح صادق کے وقت میرے شاہینوں نے جو شکار کیے اور موت کی دھمال ڈالی وہ تاقیامت دنیا یاد رکھے گی۔
سلام پیش کرتی ہوں اپنی دھرتی کے غیور بیٹوں کو جنھوں نے ڈیتھ وارنٹ پر سائن کر کے اپنی زندگی اپنے عظیم مشن "بنیان المرصوص "کی کامیابی کے سپرد کی زمین و آسمان کو ایسے بیٹوں کی دلیری پر قابل رشک ہونا پڑتا ہے۔
خصوصی خراج تحسین میرے وطن کے رکھوالے
کامران مسیح کو کیا وفا سے لڑا
میری دھرتی کا سپوت ۔قابل رشک
ہو تم کامران مسیح سلامت رہو۔
تم میرے وطن کا قیمتی سرمایہ ہو ۔
تم رشک آسمان ہو ۔تمھاری اڑان اور
پرواز شاہینوں سے بڑھ کر ہے۔
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
اللہ تمھیں دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں
اور عزتوں سے نوازے۔سلامت رہو آمین
فلک پہ یہ ایمان افروز منظر اہل زمین نے پہلی بار دیکھے ہوں گے ۔
کسیے نہ دیکھتے ؟؟؟میرے شاہین صفت جوان اپنے ڈیتھ وارنٹ پر اپنے ہاتھوں سے سائن کر کے وطن کی مانگ میں اپنا لہو کے سندور سے بھرنے کا عزم لے کر نکلے تھے ۔پھر آسمانوں پر یہ موت کی ناقابل فراموش دھمال تو بنتی تھی۔
مودی!! تم کیا جانو دو چٹکی نقلی سندور لگا کر
مانگ سجا کر مشن پر جانے والو اور اس کی بھی
قیمت پوچھتے پھرتے ہو؟؟؟
ہم سر پھرے لوگ ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر کے موت کا رقص کرتے ہیں ۔نقلی سندور نہیں اپنے لہو سے وطن کی مانگ میں سندور بھرنے کے لئے آسمانوں پر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھمال ڈالتے ہیں۔
ہم مسلمان اپنی زندگیوں کو اللہ کے لیے اور اس کے دین کے لیے گروی رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ہم امن پسند اور انسان دوست ہیں مگر جب کوئی ہماری عزت وطن ،دین سے ٹکرائے تو ہم اپنے ڈیتھ وارنٹ پر سائن کر کے موت کے ساتھ رقص کرتے ہیں۔
یوں ہی دنیا ہمیں آج آسمانوں کا بادشاہ نہیں کہتی ۔
مودی جی!!! ہماری روایات کہتی ہیں!!
تاریخ کے پلٹیے اوراق کہ دنیا کو ہو جائے یقین
جس قوم کے تم فرد ہو جو قوم مٹ سکتی نہیں!!!
ہمارا ماضی گواہ ہے ہمیشہ سے رشک آسمان تھے۔
ہم چمکتے ہی آسمان کے ماتھے پر ہیں۔
ہمارے شاہینوں کی موت سے دھمال نے دنیا کو
نظارہ کروایا کہ ہم سجتے ہی آسمانوں پر ہے۔
ہم بنے ہی آسمان پر چمکنے کے لیے ہیں ۔
اوج ثریا ہمارا مقدر اور اصل ٹھکانا ہے۔
ہم بنے ہی چمکنے کے لیے ہیں بس ہماری روشنی
تھوڑی ماند پڑ گئی تھی کیونکہ خون ٹھنڈا ہو گیا تھا
ہمارا۔مگر ہمارے خون کا درجہ حرارت جب جب بڑھا ہے
ہم نے موت سے رقص ہی کیا ہے؟؟
چاہے تلواروں کی چھاوں ہو،
آسمانوں میں رافیل کا جھرمٹ ہو،
چاہے سمندروں کی خوفناک لہریں ہوں۔
ہمارا اصل روپ مشکلات میں سامنے آتا ہے۔
جب جب ہم مصیبتوں میں گھرتے ہیں
ہم نکھرتے ہیں،اور نکھرتے ہیں ۔۔
جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے
مومن کا حسن اور جگر کے سندور کی
قدروقیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔
ہماری روایات کہتی ہیں ہمارے اسلاف سمندروں
کا سینہ چاک کر کےدشمن کی دہلیز پر جب پہنچے تو واپسی کا ایک ہی راستہ تھا سمندر جہاں سے
کشتیوں میں بیٹھ کر پہنچے تھے ۔ کشتیاں جلا کر
واپسی کا راستہ خود ہی خود پر بند کر دیا تھا۔
کشتیاں جلانا ڈیتھ وارنٹ پر دستخط تھے۔
ہماری روایات ایسی ہی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے ہمارے اسلاف فاتح ہوئے اور
ناقابل شکست حکمران بنے۔
مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ!!
ہم ڈیتھ وارنٹ پر سائن کر کے دشمن کی فضاؤں میں گھس کر موت کا رقص اور دھمال کرتے ہیں۔
ہم جب خشکی پر شکار کو نکلتے ہیں ہم دشت و دشت صحرا کا سینہ چیر کر اپنے سے مال واسباب میں کئی گنا بڑی قوت سے ٹکراتے ہیں۔
ہم جب تلواروں کیساتھ رقص کرتے ہیں ہماری تلواروں کی جھنکار کی آواز صدیوں تک دشمن کے کانوں میں گونجتی ہے۔
ہماری تاریخ گواہ ہمارے اسلاف نے میدان جنگ
میں لڑتے لڑتے اپنے بازو کھوئے سینہ چھلنی ہوئے
اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی۔
اپنے جگر کے لہو سے دین کی مانگ سجائی۔
آج بھی ہم اس روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔
مہیب طوفان کی حشر سامانیوں میں
ہم بھی ڈٹے ہوئے تھے
ہمارا سینہ چھیدا ہوا تھا ہمارے
بازو کٹے ہوئے تھے!!!
مگر روایات کہتی ہیں!!
ہم نے اس حالت میں بھی پرچم اسلام گرنے نہیں دیا۔
ہماری اسلاف کی شاندار تاریخ بتاتی ہے ہم رشک آسمان تھے اور رہیں گے۔
تم کیا جانو مودی بابو!!
جگر کے لہو کے سندور کی قیمت!!!
اور سنو!!
ہم فضاؤں میں شاہین ہوتے ہیں!!
خشکی پر بھیڑیے ہوتے ہیں!!
اور سمندروں میں شارک ہوتے ہیں
اور کبھی کبھی مگر مچھ بھی!!!
ہم ان جیسی کیفیات کیساتھ محاذ پر اترتے ہیں۔
ہم جدھر اور جس جہاں میں ہوتے ہیں
وہ ہمارا ہی جہاں ہوتا ہے۔
تم کیا جانو جعلی سندور سے مانگ بھر
کر مشن کرنے والو!!
جگر کے لہو کا رنگ اور ڈھنگ کیسا ہوتا ہے ؟؟؟؟
ہم جب بھی وطن اور دین کی مانگ میں
رنگ بھرتے ہیں اپنے جگر کے لہو سے بھرتے ہیں ۔
تم کیا جانو مومن کےجگر کے
سندور کی قیمت مودی بابو !!!
سنو چائے بیچنے والے ۔۔۔
چائے مرشد مشروب ہے اور
میرا من پسند مشروب بھی
مگر افسوس تم نے اس مشروب سے
بھی کچھ نہیں سیکھا
اپنے دور اقتدار اور دور اختیار کی طرح!!!
یہ تمھاری مہنگی چائے کی پتی سے مہنگا اور
یہ رنگ میں اچھی پتی سے اچھا اور
تمھارے سب سے قیمتی سندور کے رنگ سے
اچھا اور نہایت قیمتی ہوتا ہے۔
کیونکہ ڈیتھ وارنٹ پر سائن کرنے کے بعد
کائنات کا حسن اس جگر کے سندور کے
حسن کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے۔
اور جس مانگ میں یہ سندور لگ جائے
وہ تاقیامت امر ہو جاتا ہے
اور وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے مگر تمھیں اس کی
زندگی کا شعور نہیں ہوتا!!!
مودی بابو!!
جگر کے لہو سے بنے سندور میں
اللہ کا عشق،اسکے نبی مہربان
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت،
دین اور ملت اور اپنی قوم سے محبت
کے رنگ اور اپنی مٹی کی خوشبو اور
وفا ہوتی ہے ۔ان رنگوں کے امتزاج سے
بنتا ہے جگر کے خون سے بنا سندور!!!
مودی بابو ہم مسلمان فاتح تھے،
فاتح ہیں اور فاتح رہیں گے۔
مگر آپ کا کیا ہو گا جناب عالی!!
سچ پوچھیں تو آپ کا مستقبل تو۔۔۔ گیا!!!
سمجھ تو گئے ہوں گے۔
آپ کے حس،لالچ اورمسلمان دشمنی نے
آپ کو برباد کر دیا ہے
اور اس خطرناک آگ میں آپ نے پورے
ہندوستان کو دھکیل دیا ہے۔آپ جیسی
شخصیات پر آنے والی نسلیں ہمیشہ
لعن طعن کرتی ہیں ۔
مگر آپ پر تو ابھی سے آپ کے ظالمانہ فیصلوں کی وجہ سےکی آپ کی اپنی قوم اور پوری دنیا لعن طعن کر رہی ہے۔
تاریخ میں آپ کا بھی نام ہوگا مگر آپ بھگوان کی بجائے
شیطان کے نام سے تاریخ میں امر ہوں گے !!
ایسا شیطان مردود جس نے اپنے ساتھ ساتھ پورے
ملک اور خطے کو آگ و خون کی آگ میں دھکیل دیا!!
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے مودی سرکار
تمھاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!!!