آزادی صحافت اور دور حاضر !!
تحریر:نوشابہ یعقوب راجہ
صحافت ریاست کا چوتھا ستون، معاشرے کا مغز، عوام کی آواز ، حکومت، اقتدار، صاحب اقتدار اور ایوان کے رکھوالوں ،حکومتی اداروں اور معاشرے کے مسائل کو بیان کرنے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دینے ،مظلوم کی آواز ایوان بالا تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ مظلوم کو انصاف اور ظالم کو بے نقاب کرنے اس کے انجام تک پہنچانے کا عظیم ذریعہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
کلمہ حق کے اس مقدس فریضہ میں بہت سے صحافی اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔آج مورخہ 3 مئی آزادی صحافت کا عالمی دن ہے جسے1991میں یونیسکو جنرل کانفرنس کے بعد1993 میں اقوام متحدہ نے منانے کے بعد 1994 میں اس دن کو باقاعدہ منانے کا آغاز ہوا۔
اس دن کو منانے کا مقصد دنیا کے نڈر،دلیر،بےباک صحافیوں کو اور بالخصوص ان صحافیوں کو جو اس مقدس فرض کی ادائیگی میں اپنی جان گنوا بیٹھےان سب کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن ہے۔
دنیا بھر میں دلیر اور غیور صحافیوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔Guillermo cano بہت شہرت رکھنے والے نڈر بے باک نیوز ایڈیٹر، صحافی اور مصنف تھے۔انھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بہت سی متنازعہ سچائیاں منظر عام پر لائیں۔ان کی حوصلہ افزائی کے لئے گیلرمو کینو ورلڈ پریس فریڈم ایوارڈ متعارف کروایا گیا۔
ارشد شریف کی دلیری ،بہادری اور بےباک صحافت اور شہادت کو اور پاکستان کے دیگر صحافی شہداء اور جرات مند صحافیوں کو جنھوں نے حق سچ کے لیے پاکستان سے ہجرت کر لی اور آج بھی دوسرے ممالک میں بیٹھ کر حق سچ کی آواز بلند کر رہے ہیں۔
حق بات پہ کوڑے اور زنداں ،
باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں ،
خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم ،
اس دُکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا
بندے کو خدا کیا لکھنا
ہر شام یہاں شامِ ویراں ،
آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دُھن میں نکلے تھے ،
وہ شہر دلِ برباد کہاں
صحرا کو چمن، بَن کو گلشن ،
بادل کو رِدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا
بندے کو خدا کیا لکھنا
دنیا بھر کے ہر اس ایماندار،جری اور دلیر صحافی کو خراج تحسین جو اپنے مقدس پیشے حق سچ کے لیے ہر قربانی دیے چلا جا رہا ہے۔اور اپنے معاشرے میں حق،انصاف اور اقدار کی پاسداری پر معمور ہے۔
"I still believe that if your aim is to change the world, journalism is a more immediate short-term weapon.” – Tom Stoppard.
پاکستان کی تاریخ میں صحافیوں پر بہت کڑے دور گزرے مگر گزشتہ تین سالوں سے کلمہ حق کہنے والے صحافیوں کے لیے پاکستان کی سرزمین کو تنگ کر دیا گیا، میڈیا پر بے جا پابندیاں، صحافیوں پر ظلم تشدد، قید و صعوبت کی مصیبتوں سے گزارا گیا۔
گویا بقول علامہ اقبال
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں !!
کیسا دستور زباں بندی ہے تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
1993 میں جرنلسٹ Kevin Carter نے قحط کے دوران ایک بھوک سے نڈھال بچی کی تصویر بنائی یہ تصویر اتنی مقبول ہوئی کہ اسے Pulitzer Prize سے نوازا گیا. لیکن کارٹر اس کامیابی کے بعد بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہو کر دنیا سے کوچ کر گیا ۔دراصل جب وہ کامیابی کا جشن منا رہا تھا تو ایک دن انٹرویو کے دوران کسی نے اس سے سوال کیا کہ اس بھوک سے نڈھال بچی کا کیا بنا جس کے پاس اسے کھانے کو گدھ بیٹھا تھا۔اس نے حیرانگی سے کہا اس کی فلائٹ تھی وہ رک کر دیکھ نہیں سکا اس نے فلائٹ پکڑنی تھی۔سوال پوچھنے والے نے کہا اس دن ایک نہیں دو گدھ تھے ایک کھانے کے لیے کھڑا تھا اور دوسرے کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔اس سوال نے کارٹر کا ضمیر اتنا جھنجھوڑا کہ وہ مسلسل ڈپریشن میں رہنے لگا اور بالآخر خودکشی کر گیا۔وہ اس بچی کو بچا کر United Nations کی فیڈنگ سنٹر تک لے جا کر اس کی زندگی بچا سکتا تھا ۔صحافت محض کیمرہ پکڑ کر تصویر بنانے کا نام نہیں بلکہ معاشرے کی تصویروں میں زندگی کا رنگ بھرنے کا نام ہے۔ایک ذمہ دار صحافی کی غلطی ناقابل معافی جرم بن جاتی ہے
عہد رواں میں صحافی برادری پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے آج کے دور میں بلٹ سے زیادہ سوچ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
قلم سے آگ بجھاؤ کہ جل رہا ہے چمن
خموش بیٹھے ہو، کیسے ادیب لگتے ہو
آج کے عہد کا اہل قلم وہ ہے جس کی شعلہ بیانی کہیں بجھے چراغ جلا دے اور کہیں ظلمت،جہالت اور نفرت سے لگی آگ بجھا دے۔
ہر اہل قلم کو سلام جنھوں نے معاشرے کی جہالت اور ظلمت مٹانے کے لیے شمع کی مانند خود کو جلایا ہوا ہے ۔انشاءاللہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔
صحافی معاشرے کا معمار ہوتا ہے اس کی جان ،مال،آبرو ،عزت،وقار کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری اور صحافی کا بنیادی حق ہوتا ہے ۔اس تحفظ کے حصول کے لیے دنیا میں بہت سی صحافی تنظیمیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔