عمبرین جان کی بطور پہلی خاتون چیئرپرسن پیمرا تقرری ـــ تجربہ ، وقار اور زمہ دار میڈیا قیادت کی نئی مثال ۔
تحریر سید مجتبی رضوان
پاکستان میں ریاستی اداروں کی قیادت پر خواتین کی تقرری ہمیشہ ایک اہم علامتی اور عملی پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں جب سابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات محترمہ عمبرین جان کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی پہلی خاتون چیئرپرسن مقرر کیا گیا اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اس تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوا تو یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی لمحہ بھی تھا۔ یہ تقرری نہ صرف ان کی طویل اور باوقار سرکاری خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان میں میڈیا ریگولیشن کے میدان میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے جہاں ایک تجربہ کار اور پیشہ ور بیوروکریٹ قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں۔
عمبرین جان کا شمار اُن افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نظم و ضبط، شفافیت اور ادارہ جاتی مضبوطی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی سروس پروفائل اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ محض روایتی انداز میں ذمہ داریاں نبھانے والی افسر نہیں رہیں بلکہ انہوں نے ہر منصب کو ایک موقع سمجھ کر ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے۔ بطور وفاقی سیکرٹری اطلاعات ان کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی، کیونکہ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کا میڈیا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا تھا، سوشل میڈیا کی یلغار بڑھ رہی تھی، اور روایتی میڈیا کو بھی نئے چیلنجز درپیش تھے۔
وزارت اطلاعات میں ان کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب حکومت اور میڈیا کے تعلقات میں حساسیت موجود تھی۔ اس مرحلے پر انہوں نے ایک متوازن اور باوقار طرز عمل اپنایا۔ انہوں نے نہ صرف حکومتی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی حکمت عملی وضع کی بلکہ میڈیا اداروں کے ساتھ مکالمے کا دروازہ بھی کھلا رکھا۔ ان کا یہ رویہ اس بات کی علامت تھا کہ وہ میڈیا کو محض ایک انتظامی چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ جمہوری نظام کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتی ہیں۔ یہی سوچ آج پیمرا جیسے حساس اور بااثر ادارے کی قیادت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
پیمرا کی چیئرپرسن کے طور پر ان کی تقرری کئی حوالوں سے اہم ہے۔ پیمرا وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے لائسنسنگ، نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے۔ اس ادارے کو ہمیشہ سے دو بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے: ایک طرف آزادی اظہار کا تحفظ اور دوسری طرف ذمہ دارانہ صحافت کو یقینی بنانا۔ ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔ عمبرین جان کا بطور وفاقی سیکرٹری اطلاعات تجربہ انہیں اس نازک توازن کو سمجھنے اور سنبھالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے سرکاری سطح پر میڈیا پالیسی سازی، بحران کے اوقات میں اطلاعات کے بہاؤ کو منظم رکھنے اور ریاستی بیانیے کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا تجربہ حاصل کیا، جو پیمرا میں ان کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک نمایاں پہلو ان کی انتظامی مہارت ہے۔ سرکاری مشینری میں کام کرتے ہوئے انہوں نے پالیسی سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قانون پر عمل درآمد کے معاملات میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کا اندازِ قیادت مشاورت، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر مبنی رہا ہے۔ یہی خصوصیات پیمرا جیسے ادارے میں درکار ہیں جہاں فیصلے اکثر عوامی بحث کا موضوع بنتے ہیں اور ہر اقدام کو کڑی جانچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی تقرری اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ پیمرا ایک زیادہ پیشہ ور، غیر جانبدار اور شفاف انداز میں اپنے فرائض انجام دے گا۔
عمبرین جان کی بطور وفاقی سیکرٹری اطلاعات کارکردگی میں ڈیجیٹل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرنا اور اس کے لیے پالیسی فریم ورک کی تیاری بھی شامل رہی۔ انہوں نے اس امر کو محسوس کیا کہ روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن پلیٹ فارمز کو بھی کسی نہ کسی ضابطے کے دائرے میں لانا وقت کی ضرورت ہے، تاہم یہ کام آزادی اظہار کو متاثر کیے بغیر ہونا چاہیے۔ ان کی یہی متوازن سوچ پیمرا میں بھی کارآمد ہو سکتی ہے، کیونکہ آج میڈیا کا تصور صرف ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو تک محدود نہیں رہا بلکہ یوٹیوب چینلز، ویب ٹی وی اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔
یہ تقرری خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک سنگ میل ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ سطحی ریگولیٹری اداروں کی قیادت عموماً مردوں کے پاس رہی ہے۔ ایسے میں عمبرین جان کا پہلی خاتون چیئرپرسن بننا نہ صرف ایک علامتی کامیابی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ خواتین انتظامی اور پالیسی سازی کے حساس ترین شعبوں میں بھی مؤثر قیادت فراہم کر سکتی ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ اور کارکردگی اس امر کا ثبوت ہے کہ قابلیت اور محنت صنف کی محتاج نہیں ہوتیں۔
پیمرا کو اس وقت کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں فیک نیوز کا پھیلاؤ، سنسنی خیزی، اخلاقی ضابطوں کی خلاف ورزیاں اور سیاسی پولرائزیشن شامل ہیں۔ ایک مضبوط اور باوقار قیادت ان مسائل سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ عمبرین جان کی بیوروکریٹک تربیت انہیں قانون کی تشریح اور نفاذ میں مہارت فراہم کرتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پیمرا کے اندرونی ڈھانچے کو مزید فعال اور جوابدہ بنانے کے لیے اقدامات کریں گی، لائسنسنگ کے عمل کو مزید شفاف بنائیں گی اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مؤثر بنائیں گی۔
بطور سیکرٹری اطلاعات انہوں نے بحرانوں کے دوران میڈیا مینجمنٹ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ قومی سطح کے حساس معاملات میں معلومات کی درست اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ایک مشکل کام ہوتا ہے، مگر انہوں نے اس ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھایا۔ یہی تجربہ انہیں پیمرا میں بھی درپیش پیچیدہ حالات سے نمٹنے میں مدد دے گا۔ میڈیا ریگولیشن میں سب سے بڑی آزمائش یہی ہوتی ہے کہ ریاستی مفاد، عوامی حقِ معلومات اور صحافتی آزادی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ ان کی سابقہ کارکردگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس توازن کی نزاکت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ ان کی تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان میں میڈیا کے کردار پر مسلسل بحث جاری ہے۔ کچھ حلقے میڈیا کی آزادی پر زور دیتے ہیں جبکہ دیگر ذمہ داری اور احتساب کی بات کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک تجربہ کار اور نسبتاً غیر متنازعہ افسر کی قیادت امید افزا سمجھی جا رہی ہے۔ ان کا رویہ ہمیشہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مکالمے پر مبنی رہا ہے، جو اس وقت کی ضرورت بھی ہے۔
ان کی ملازمت کا دورانیہ، مختلف وفاقی اور صوبائی ذمہ داریاں اور پالیسی سطح پر کام کرنے کا تجربہ اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ وہ فیصلے جلد بازی میں نہیں بلکہ قانونی اور انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کریں گی۔ بطور چیئرپرسن پیمرا ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھتے ہوئے ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر مضبوط کریں گی۔ اگر وہ اس مقصد میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہوگی بلکہ پاکستان کے میڈیا منظرنامے کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن اس تقرری کو آئینی اور قانونی جواز فراہم کرتا ہے، مگر اصل امتحان اب عملی میدان میں ہوگا۔ پیمرا کی سربراہی محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ میڈیا کے پھیلتے ہوئے دائرے، عوامی توقعات اور سیاسی ماحول کے دباؤ کے درمیان راستہ نکالنا آسان نہیں۔ تاہم عمبرین جان کی پیشہ ورانہ ساکھ، ان کی انتظامی مہارت اور بطور وفاقی سیکرٹری اطلاعات ان کی کارکردگی اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ وہ اس منصب کے تقاضوں پر پورا اتریں گی۔
یوں عمبرین جان کی پیمرا کی پہلی خاتون چیئرپرسن کے طور پر تقرری ایک تاریخی پیش رفت ہے جو پاکستان کے انتظامی اور میڈیا ڈھانچے میں ایک نئے عزم کی علامت ہے۔ یہ تقرری اس بات کا پیغام بھی ہے کہ پیشہ ورانہ قابلیت، دیانت داری اور تجربہ بالآخر اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔ اگر وہ اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شفافیت، مکالمے اور قانون کی بالادستی کو فروغ دیتی رہیں تو پیمرا ایک مضبوط اور متوازن ادارے کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو نہ صرف میڈیا کی آزادی کا محافظ ہو بلکہ ذمہ دار صحافت کا ضامن بھی بنے۔