پاکستان کا جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے عالمی سطح پر کردار نمایاں ہے ،طاہر اندرابی
مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز: دفتر خارجہ
اسلام آباد(مدثر اقبال چوہدری) دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں نمایاں تیزی لائی ہے، جس میں ایران سے متعلق پیش رفت بھی شامل ہے۔
ترجمان نے 2 اپریل 2026 کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے بھر عالمی رہنماؤں سے متعدد ٹیلیفونک رابطے کیے، جن کا مقصد خطے میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
اسلام آباد میں اس دوران اہم سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ یہ ملاقات چار ملکی مشاورت کے دوسرے اجلاس کے سلسلے میں ہوئی، جبکہ پہلا اجلاس 19 مارچ 2026 کو ریاض میں منعقد ہوا تھا۔
اجلاس میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے جاری تنازعات کے فوری اور مستقل خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جنگ کے باعث خطے میں انسانی جانوں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس موقع پر مسلم امہ کے اتحاد کو موجودہ حالات میں انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
پاکستان نے اجلاس کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں سہولت کاری کی پیشکش سے بھی آگاہ کیا، جسے شریک ممالک نے سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ کے خطرات کو محدود کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریقین کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، بالخصوص خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو یقینی بنانا چاہیے۔
ہفتے کی ایک اہم پیش رفت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا چین کا دورہ تھا، جو 31 مارچ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا۔ یہ دورہ اس بات کا مظہر تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے، حتیٰ کہ وزیر خارجہ نے معمولی طبی عارضے کے باوجود یہ دورہ کیا۔
اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پانچ نکاتی مشترکہ اقدام پر اتفاق کیا گیا۔ اس میں فوری جنگ بندی، جلد از جلد امن مذاکرات کا آغاز، شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کا تحفظ، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا، اور اقوام متحدہ کے چارٹر و بین الاقوامی قوانین کی پاسداری شامل ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے۔ 27 مارچ کو انہوں نے کویت کے ولی عہد سے گفتگو کرتے ہوئے ملک پر حملوں کی مذمت کی اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ کویتی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
28 مارچ کو وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی رابطہ کیا، جس میں جاری کشیدگی اور اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔
31 مارچ کو وزیراعظم نے انتونیو کوسٹا سے بھی گفتگو کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے علاوہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور آئندہ بزنس فورم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی ہفتے کے دوران متعدد عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے، جن میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس، ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان، اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔ ان گفتگوؤں میں خطے کی صورتحال، امن کی کوششوں اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک اہم پیش رفت میں ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جن میں سے دو جہاز روزانہ گزر سکیں گے۔ ترجمان کے مطابق یہ ایک مثبت اور اعتماد سازی کا اقدام ہے جو خطے میں استحکام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔
علاوہ ازیں پاکستان سمیت متعدد ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں مقبوضہ یروشلم میں عبادت کی آزادی پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی۔ بیان میں مسجد اقصیٰ اور چرچ آف ہولی سیپلکر تک رسائی میں رکاوٹوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم میں غیر قانونی اقدامات بند کرنے چاہئیں اور عالمی برادری کو اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ پائیدار امن صرف مذاکرات، تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔