Gas Leakage Web ad 1

پاکستان کو غیرمستحکم کرنےکیلئےکسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینگے: صدر مملکت

پاکستان کو غیرمستحکم کرنےکیلئےکسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینگے: صدر مملکت

0

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی کو بھی ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید مذمت بھی کی۔

Gas Leakage Web ad 2

راولپنڈی؛ تبادلہ کرنے پر کلرک کا ساتھیوں سمیت سی ای او پر حملہ

صدر مملکت نے کہا کہ یہ ان کا پارلیمنٹ سے بطور دو مرتبہ منتخب صدر مملکت نواں خطاب ہے اور ایسے خطابات جمہوری نظام کے تسلسل اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران کے وقت نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، اس لیے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور شہریوں کی خوشحالی اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی جدوجہد کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور دیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا جبکہ بے نظیر بھٹو نے جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے لیے قربانیاں دیں۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دور میں اصل آئین کی بحالی اور اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کا عمل مکمل کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران قوم کو پیچیدہ چیلنجز کا سامنا رہا اور ملک کی سکیورٹی فورسز نے دفاعی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔ صدر نے کہا کہ قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی بھارتی حملے کو تاریخی تزویراتی فتح میں تبدیل کیا گیا اور دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں کا پیشہ ورانہ جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان گروپوں کی کارروائیوں کا بھی فیصلہ کن جواب دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلح افواج کی قربانیاں صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہ وطن کے دفاع کی علامت ہیں۔

صدر نے کہا کہ 26 فروری کی رات مغربی سرحد پر حملے کیے گئے جن کے بعد سکیورٹی فورسز نے واضح کر دیا کہ کسی بھی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت متحد ہے اور قوم ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور ملک کا آئین، خصوصاً آئین پاکستان کا آرٹیکل 51 دفاع کا حق دیتا ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کسی کو بھی اپنے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور افغانستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کے راستے کو ترجیح دیتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.