طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹرپراکسی ہے،یواین رپورٹ کہتی ہے21 کے قریب دہشتگرد تنظیمیں آپریٹ ہورہی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹرپراکسی ہے،یواین رپورٹ کہتی ہے21 کے قریب دہشتگرد تنظیمیں آپریٹ ہورہی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان کی طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جسے افغان طالبان رجیم نے بنیاد بنا کر اشتعال انگیزی کی۔
انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم دہشت گردوں کی ماسٹر پراکسی ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 21 کے قریب دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں آپریٹ کر رہی ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تاہم پاکستانی افواج نے تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق میں اب تک 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ ان کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔ دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اہداف میں کسی بھی سویلین کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے افغان میڈیا اور سوشل میڈیا پر سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف دہشت گردوں کی پوسٹوں اور گن پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اور دہشت گردوں نے مل کر پاکستان پر حملہ کیا، تاہم آپریشن کے دوران پاک فوج کے 12 سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا۔