پاکستان کا مقامی تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ، دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ
پاکستان کا مقامی تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ، دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ
پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے، جس کے بعد دشمن پر پاک فوج کی صلاحیتوں سے لرزہ طاری ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فضائیہ نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا۔ یہ ٹیسٹ قومی ایرو اسپیس اور دفاعی صلاحیتوں کے فروغ میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل 600 کلومیٹر تک کی رینج کے ساتھ دشمن کے زمینی اور بحری اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ روایتی وارہیڈ لے جانے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق جدید ترین نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس یہ میزائل نہایت کم بلندی پر پرواز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے یہ دشمن کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام سے مؤثر طور پر بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی پریسیژن اسٹرائیک صلاحیت پاک فضائیہ کی روایتی ڈیٹرنس اور آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ کرتی ہے، جس سے ملک کی مجموعی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کامیاب فلائٹ ٹیسٹ پاکستان کی دفاعی صنعت کی تکنیکی پختگی، جدت اور خودانحصاری کا واضح ثبوت ہے۔ لانچ کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج کے سینئر افسران کے علاوہ ممتاز سائنسدانوں اور انجینئرز نے شرکت کی، جنہوں نے اس جدید ویپن سسٹم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس نمایاں کامیابی پر سائنسدانوں، انجینئرز اور پاک فضائیہ کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایسی کامیابیاں ٹیکنالوجی میں خودکفالت کے قومی عزم اور بدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں قابلِ اعتماد روایتی ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی غماز ہیں۔ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب ٹیسٹ پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کی تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر قوم کو مبارکباد
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاک فضائیہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری قومی صلاحیت، عزم اور ادارہ جاتی مہارت کی واضح عکاس ہے۔ صدر زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فضائیہ کی اس کامیابی سے ملکی دفاع مزید مضبوط اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی ذمہ دارانہ دفاعی پالیسی کو تقویت ملی ہے۔ یہ کامیابی قومی دفاع میں خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں، انجینئرز اور پاک فضائیہ کے افسران و جوانوں کی محنت، پیشہ ورانہ لگن اور قومی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے۔
اسی دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے پاکستان سے متعلق دیے گئے ریمارکس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان بھارتی وزیرِ خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے فروغ میں اپنے تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے بالخصوص پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کی پشت پناہی اور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے، اس کے علاوہ ماورائے سرحد قتل اور پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں نہایت تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔