ہائیکورٹ کے کچھ ججز تضحیک آمیز ریمارکس دیتے ہیں
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ن لیگ کے 3 اراکین کی قومی اسمبلی کے 3 حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اپیلوں پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نے 47 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ممبران احترام کے حق دار ہیں، بد قسمتی سے کچھ ججز اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے تضحیک آمیز ریمارکس دیتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال
سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلے میں کہنا ہے کہ ہر آئینی ادارہ اور آئینی عہدے دار احترام کا مستحق ہے، ادارے کی ساکھ میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب وہ احترام کے دائرے میں فرائض سر انجام دے۔
اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ 3 حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں 9 اور 10 فروری کو آ گئی تھیں، 5 اگست2023ء کو الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم کے ذریعے ریٹرننگ افسر کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا اختیار دیا گیا۔سپریم کورٹ نے اکثریتی تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ جب ہائی کورٹ میں کیس گیا اس وقت یہ ترمیم موجود تھی، ہائی کورٹ نے سیکشن 95 کی ذیلی شق 5 کو مدِ نظر ہی نہیں رکھا۔