شدید سردی کے باوجود پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھول دیے گئے، والدین و شہری سراپا احتجاج
شدید سردی کے باوجود پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھول دیے گئے، والدین و شہری سراپا احتجاج
آزاد کشمیر کے بیشتر نجی تعلیمی اداروں نے سخت سردی کی لہر اور حکومتی نوٹیفکیشن کے باوجود اسکول کھول دیے ہیں، جس کے خلاف والدین اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب ہے، لیکن نجی اسکولوں نے سردیوں کی چھٹیوں کے نوٹیفکیشن کو نظرانداز کرتے ہوئے کلاسز بحال کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں بچے سردی، دھند اور یخ بستہ ہواؤں میں اسکول جانے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب سرکاری اسکول بند ہیں تو نجی اداروں کا کھلا رہنا ناانصافی اور بچوں کی صحت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ والدین نے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرने والے نجی اسکولوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت کے نوٹیفکیشن کی کوئی اہمیت نہیں رہی تو انہیں جاری کرنے کا مقصد کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ محکمہ تعلیم فیلڈ میں نکل کر صورتحال کا جائزہ لے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف جرمانے، بندش اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ بچوں کی صحت و جان کو تحفظ مل سکے۔