ایف آئی اے نے مراکش کشتی حادثے میں ملوث بدنام زمانہ انسانی اسمگلر کو گرفتار کر لیا
ایف آئی اے گوجرانوالا زون کے مطابق گرفتار ملزم قاصد علی ریڈ بک میں شامل انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز میں سے تھا اور گوجرانوالا سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزم بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا اہم رکن تھا اور اس کے خلاف متعدد مقدمات درج تھے۔
حکام کے مطابق ملزم شہریوں کو یورپ بھیجنے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرتا اور انہیں غیر قانونی راستوں سے افریقہ منتقل کرتا تھا۔ متاثرہ خاندانوں سے ملزم نے اسپین بھیجنے کے نام پر فی کس 33 لاکھ روپے وصول کیے۔
انسانی اسمگلروں کے اس نیٹ ورک نے متاثرہ نوجوانوں کو موریطانیہ منتقل کرکے تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں متاثرین کو سمندر کے راستے اسپین بھیجنے کا جھانسہ دے کر رابطہ منقطع کر دیا گیا، اور کشتی حادثے میں متاثرین جان کی بازی ہار گئے۔
گرفتار ملزم پر انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات کا سبب بننے جیسے سنگین الزامات ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ملزم ایک منظم بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ گینگ کا اہم کارندہ تھا جو معصوم شہریوں کو دھوکہ دے کر غیر قانونی ہجرت پر مجبور کرتا تھا۔