ضرورت ، مجبوری اور وقت کے تقاضے
عابد رشید
جنگوں اور جنگ جیسے حالات نے دنیا کے مسائل حل کرنے کے بجائے ہمیشہ ان میں اضافہ ہی کیا ہے….مسائل کی یہ پیداوار جنگوں کے بعد بھی جاری رہتی ہے اگر جنگوں سے مسائل حل ہوتے تودو عالمی جنگوں کے ذریعے” داد شجاعت“ پانے والے ملک اب تک ان مسائل کو حل کر چکے ہوتے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہی ” بہادر“ ملک ہمیشہ دنیا کیلئے مصیبت بنے رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں شامت گھاس کی آتی ہے کیونکہ میدان میں اگنے والی نرم کونپلوںکی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اسرائیل ، امریکہ اور ایران کے ٹکراﺅ میں دھول کا بادل آسمان تک اٹھ رہا ہے اور ہم جیسے ممالک کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کس سمت جھکیں اور کس سمت سے بچیں…. ہم ایک ایسی کشتی میں بیٹھے ہیں جسے ہر طرف سے طوفانی موجوں نے گھیر رکھا ہے….لہریںبے قابو ہو رہی ہیں …. ملاح بڑی مشکل میں ہے۔
وقت کے دھارے میں ہماری ریاستی حکمت عملی تنی ہوئی رسی پر چلنے والے اس فنکار کی سی ہے جس کے نیچے گہری کھائی ہے اور اوپر تماشائیوں کی نگاہیں…. حالت نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن…. ذرا سی چوک کا انجام سب کومعلوم ہے….جب حالات ایسے ہوں توہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے…. ہر جملہ ناپ کر بولنا پڑتا ہے اور ہر اشارہ دانشمندی کا تقاضہ کرتا ہے۔
عجیب کشمکش ہے…. ایک طرف بھارت دانت تیز کئے بیٹھا ہے تو دوسری طرف افغانستان نے تھوتھنی اٹھائے پنجہ مارنے کیلئے گھات لگا رکھی ہے…. آستین کے سانپ ذرا سی درز کے منتظر ہیں…. خلیج میں جو بھنور اٹھا ا ہے اس کے شور میں یہ کشمکش کسی کو سنائی نہیں دے رہی….!
اصل سوال معیشت کی نبض سے جڑا ہوا ہے….عالمی بساط پر کھیل اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں ہر ملک کو اپنی اپنی بتی بچانے کی فکر ہے…. مگر ہمیں تو بجلی بھی جلانی ہے اور تاوں کو بھی بچانا ہے….!
ہمارے ملک کی مثال ایک ایسی سرائے کی ہے جہاں مسافروں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے…. کوئی دوست بن کر آتا ہے….کوئی محتاجی لے کر اور کوئی طاقت کے غرور سے چور…. سرائے کے رکھوالے کی مجبوری یہ ہے کہ وہ کسی مہمان کو دروازے سے واپس نہیں کر سکتا۔
اسے قسمت کا چکر کہیں کہ ہماری سرائے اس راستے پر واقع ہے جہاں ہر بحران میں عالمی سیاست کی گاڑیاں رفتار کے گھمنڈ اور ضد کے پہئے لئے ہمیشہ آمنے سامنے کھڑی رہتی ہیں۔….
امریکہ اور ایران کی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے….لیکن ہماری معیشت کی کئی ڈوریں امریکہ کے ہاتھ میں ہیں…. خلیج میں میزائلوں کی گونج سنائی دے رہی ہے مگر ہم سفارتی خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں کیونکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی روزگار کی خاطر مقیم ہیں۔ ان کی محنت سے آنے والی رقوم ہماری معیشت کے کمزور جسم کو سہارا دیتی ہیں….یہ وہ ہاتھ ہیں جن کے خون پسینے کی کمائی درہم اور ریالوں کی صورت میں یہاں پہنچ کر مختلف اعداد سے ضرب کھا کر ہمارے مالیاتی نظام کو سہارا دیتی ہے ۔ اسی خطے سے ہماری توانائی کی بڑی ضرورت پوری ہوتی ہے اور مالی مشکل کے وقت مالی سہارا بھی وہیں سے ملتا ہے۔
ہم نے اپنے خلیجی دوستوں کو یہ یقین دہانی بھی کرا رکھی ہے کہ اگر ان پر کوئی مشکل آن پڑی تو ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ مگر تقدیر کا کھیل دیکھئے کہ وعدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی افق پر تنازع کی چنگاریاں اٹھنے لگیں۔
ایران ہماری دہلیز کا پڑوسی ہے…. پڑوسی سے دشمنی بھی آسان نہیں ہوتی۔ اس لئے کبھی خاموش اشاروں میں، کبھی محتاط جملوں میں ہم اسے یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حالات کی تنگ گلی میں ہمیں بھی سانس لینے کی گنجائش چاہئے….ہم کھل کر مخالفت کر سکتے ہیں نہ ہی برملا حمایت….
خطے کی بساط بھی بدل رہی ہے۔ ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں اور آذربائیجان سے قربت بھی گزشتہ برسوں میں بڑھی ہے مگر خطے میں اختلافات کی نئی لکیریں ابھرتی نظر آنے لگی ہیں اگر ایسا ہوتا ہے تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ایران کے خلیجی ملکوں میں موجودامریکہ کے ٹھکانوں پر میزائل حملوں کے درمیان خوش کن بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی ایرانی میزائل نے یہاں کا رخ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی سرکش ڈرون ہماری حدود تک پہنچا ہے۔ اس میں حکمت عملی بھی ہے اور شاید قسمت کا سایہ بھی….!
ہماری سفارت کاری اس وقت اس مالی کی مانند ہے جو ایک ہی باغ میں مختلف موسموں کے پودے سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ کسی شاخ کو پانی دے رہا ہے….کسی کو دھوپ سے بچا رہا ہے اور کسی درخت کو آندھی سے سہارا دے رہا ہے۔
ہمیں ایک طرف پڑوسی کو تسلی دینی ہے تو دوسری طرف اتحادیوں کے ساتھ بھی نہیں بگاڑنی…. آندھیاں کتنی ہی تیز کیوں نہ ہوں چراغ جلائے رکھنا ہے…. اپنی عوام کو بھی سمجھانا ہے کہ عالمی سیاست کی اس آگ کی تپش معیشت تک بھی پہنچتی ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کی لہر روزمرہ زندگی تک آتی ہے۔
ہم شاید اس مشکل رقص سے بچنا چاہتے تھے مگر حالات نے ہمیں اسی اسٹیج پر لاکھڑا کیا ہے…. اگر ایران میں عدم استحکام پیدا ہوا اور خطہ کسی نئے انتشار کی لپیٹ میں آ گیا تو اس کے اثرات ہماری سرحدوں تک پہنچ سکتے ہیں…. بلوچستان کے دونوں جانب بے یقینی کی نئی فضا جنم لے سکتی ہے اور علاقائی طاقتیں اس خلا کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں…. پناہ گزینوں کا دباو الگ مسئلہ بن سکتا ہے۔ ایک طرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہوگا تو دوسری طرف معاشی اور سیاسی بوجھ….
ان حالات میں چین تجربہ کار کھلاڑی کی طرح کھیل کے آخری مرحلے کا منتظر ہے…. ہم ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جس کے سامنے طوفان کی بے رحم موجیں ہیں…. راستہ بھی کٹھن ہے اور موسم بے یقین….!
جو ممکن ہے ہم کر رہے ہیں…. ہمیں سنبھل کرچلنا ہے….دروازے بند نہیں کرنے اور چراغ بھی جلائے رکھنا ہے….یہ ہماری ضرورت ہے…. مجبوری بھی اور حالات کا تقاضہ بھی….!