کراچی: کراچی میں آگ، زلزلہ اور سیلابی صورتحال کے دوران کمانڈ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ اب کسی بھی قسم کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے میئر کراچی اتھارٹی ہوں گے اور تمام ادارے میئر کی نگرانی میں آپریشن انجام دیں گے۔
کمشنر کراچی حسن نقوی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت اور اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد اس بات کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔
جعلی پائلٹ لائسنس معاملہ، پی آئی اے کو 5 سال میں 200 ارب روپے کا نقصان
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ اور شہر میں پیش آنے والے دیگر بعض واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے سنگل اتھارٹی کے ایم سی کے سپرد کی جائے گی۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومت سندھ کے اس طرح کے دیگر تمام ادارے ضرورت پڑنے پر میئر کی کمانڈ میں فرائض انجام دیں گے۔
کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ ایمبولینس سروس کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ میئر کا عہدہ نہ ہونے کی صورت میں کے ایم سی کا انتظامی سربراہ ہیڈ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ میئر کا کردار کمانڈ کے لیے بہتر ہے۔ کے ایم سی کے پاس اس وقت 44 فائر ٹینڈر ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کے پاس 11 فائر ٹینڈر ہیں۔ کے ایم سی کے پاس میونسپل سروسز کا محکمہ، ہیوی مشینری، سٹی وارڈن اور دیگر مین پاور بڑی تعداد میں موجود ہے جبکہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا بھی میئر برائے عہدہ چیئرمین ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی وابستگی رکھنے والا شخص مضبوط اور زیادہ اثر و رسوخ والا ہوتا ہے۔