محمد شہباز شریف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر انتہائی دکھ ہوا ہے اور پاکستان کی عوام اور حکومت ایرانی عوام کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سربراہان مملکت اور حکومت کو نشانہ نہ بنایا جانا بین الاقوامی اصولوں کا حصہ ہے۔
آیت اللہ علی رضا أعرافی کو قائم مقام سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبر عطا فرمائے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد وزیراعظم نے روس کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی وفد کو بھی ماسکو جانا تھا تاہم ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث دورہ ممکن نہیں رہا اور اس حوالے سے ماسکو کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔ اجلاس میں افغانستان اور ایران سمیت خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور موجودہ حالات میں پاکستان کی پالیسی پر غور کیا جائے گا جبکہ آنے والے دنوں میں مؤقف سے متعلق رہنما اصول بھی مرتب کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں پاکستان کی نمائندگی کس سطح پر کی جائے گی۔