ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران حملے میں پہل کرنا چاہ رہا تھا، اس لیے صدر ٹرمپ کے پاس کارروائی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
انتظامیہ کے مطابق تہران کی سنجیدگی نہ ہونے پر صدر ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ کیا، اور ایران یورینیم افزودگی برقرار رکھ کر ایٹم بم کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا تھا۔
ایران کا ردعمل ہماری توقع سے کم رہا، حملے کے بعد سفارتکاری زیادہ آسان ہوگئی ہے: ٹرمپ
دوسری جانب امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے اور ایران پر حملے کے بعد سفارت کاری پہلے سے زیادہ آسان ہو گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے آج سخت حملوں کا اعلان کیا ہے، بہتر ہے وہ ایسا نہ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایسا کیا تو اسے ایسی طاقت سے نشانہ بنایا جائے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔