سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی، منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے: صدر مملکت
سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی، منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے: صدر مملکت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کے حوالے سے برداشت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور تشدد کے منصوبہ ساز جہاں کہیں بھی موجود ہوں، وہ دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔
اپنے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر اب مزید برداشت ممکن نہیں رہی اور پاکستان اپنے دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔
کیا مسافر سفر کی بناء پر روزہ چھوڑ سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تنبیہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل پناہ ملتی رہی ہے، افغانستان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک اور غیر یقینی ہو چکی ہے اور دوحہ معاہدہ کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کھلی آزادی حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے افغانستان میں متعدد گروہوں کی فعال موجودگی کی تصدیق کی ہے، رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت کئی تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان کی افغانستان میں انٹیلیجنس بیسڈ ائیراسٹرائیکس میں خوارج کے 7 مراکز تباہ، 80 سے زائد کی ہلاکتوں کی اطلاع
افغانستان میں کی گئی کارروائیوں میں 70 کے قریب دہشتگرد مارے گئے: طلال چوہدری
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افغان حکام نے بارہا انتباہات کے باوجود کوئی قابلِ اعتماد اقدام نہیں کیا، پاکستان نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو مخصوص علاقوں تک محدود رکھا، تاہم تشدد کے منصوبہ ساز جہاں بھی ہوں گے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن امن اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں، پاکستانی شہریوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
آصف زرداری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان رجیم نے نائن الیون سے پہلے جیسی یا اس سے بھی زیادہ خراب صورتحال پیدا کر دی ہے، داعش خراسان، ٹی ٹی پی، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ افغانستان سے سرگرم ہیں جبکہ جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ بھی وہاں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جوابی کارروائی کی اور تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو نشانہ بنایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق 70 دہشت گرد مارے گئے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔