بنگلہ دیش کا الیکشن جماعت اسلامی اور دلوں کا معاملہ۔

بنگلہ دیش کا الیکشن جماعت اسلامی اور دلوں کا معاملہ۔

0

بنگلہ دیش کا الیکشن جماعت اسلامی اور دلوں کا معاملہ۔
آواز۔۔۔شہزاد چوہدری۔۔۔

معصوم لوگ ہیں جماعت اسلامی والے۔۔۔کبھی کبھی ان پہ پیار آتا ہے،کبھی کبھی ترس،کبھی کبھی غصہ ۔۔اور کبھی کبھی رشک۔۔۔۔
ان کی اپنی منطق ہے ۔۔اپنا طریقہ کار ہے۔۔۔اچھے لوگ ہیں یہ۔۔۔سمجھدار،سنجیدہ،مخلص،دین دار لوگ ہیں۔لیکن سیاست کی چال بازیاں نہیں سمجھ پاتے۔۔۔ان سے بات کرو تو برا مان جاتے ہیں۔۔۔ان کو سمجھاو تو ناراض ہوجاتے ہیں۔۔۔
ان کا یہی مسلہ ہے۔۔۔تربیت سازی میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔!!!!
ان جیسے پاک باز لوگ کہاں ملتے ہیں آج کل۔۔۔!!!!!!!
ویسے بھی جو دین کا نام لے، جو اللہ کے دین کی نصرت کی بات کرے، جو کلمے والا جھنڈا تھام کر الیکشن لڑے۔۔۔۔اور یہ سمجھے کہ وہ آسانی سے اس سسٹم میں رہ کر اسی طریقہ کار کے مطابق اسلامی انقلاب برپا کردیں گے۔بھلا۔یہ کیسے ممکن ہے؟؟؟؟اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ سب چٹکی بجاتے،پلک جھپکتے ہی ہوجائے گا۔۔۔ایسا ناممکن ہے۔۔۔دوستوں کو یاد ہو کہ نہ ہو،،، ہمارے مولانا فضل الرحمان آٹھ دس دن رھ کر آئے تھے بنگلہ دیش ۔۔۔وہ جماعت اسلامی کی حمایت کرنے نہیں ۔۔۔بلکہ اسی وجہ سے گئے تھے جس وجہ سے انھیں جانا چاھیے تھا۔۔۔کیا وہ اچانک منہ اٹھا کرچلے گئے تھے؟؟؟یا ان کو کسی کا کہیں سے اشارہ ہوا تھا؟؟؟
اور ان کے فالورز نے کس کو ووٹ کاسٹ کیا؟؟
جماعت والے بہت سادے ہیں۔۔۔
وہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ ایم ایم اے والے الیکشن میں جس طرح انہوں نے جے یو آئی کے امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کئے تھے اسی طرح جے یو آئی نے بھی جماعت اسلامی کے امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کئے تھے۔۔۔۔اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اب۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر بنگلہ دیش میں جب حسینہ واجد اور ان کے دوست۔۔۔ اور ان کے خیر خواہ پلان بی(B) پر عمل کررھے تھے جماعت اسلامی ابھی ایکشن کمیٹی اور یوتھ والے ہنی مون پیریڈ میں تھی۔۔۔جماعت اسلامی کو سب اچھا نظر آرھا تھا۔اور اچھا تھا بھی۔۔۔۔۔جماعت کو اپنی دیگ میں بنتی کھیر نظر آرھی تھی۔۔۔دودھ اور چاول کی خوشبو مہک رھی تھی۔۔۔۔لیکن پھر ایسا نہ ہوا۔۔اب کی بار بھی جماعت اپنی دیگ چڑھا کر بھی کھیر نہ کھا سکی۔۔۔لیکن چلو ایک بات تو ہوئی اب کی بار ان کی کھیر چولہے سے گری بھی نہیں،کسی اور نے کھائی بھی نہیں۔۔۔وہ انہی کے پاس ہے۔۔۔اب یہ ان پہ ہے کہ وہ آرام آرام سے کھائیں یا ایک ہی بار ہڑپ کرجائیں۔۔۔۔
بچہ بچہ جانتا ہے کہ دشمن کا دشمن دوست۔۔۔
ڈیٹس اٹ۔۔۔۔
thats it
یہی ہوا۔۔حسینہ واجد کی باقیات نے جماعت اسلامی اور بی این پی میں سے ایک کو اقتدار میں دیکھنا تھا تو یقیناً ان کو بی این پی سوٹ کرتی تھی۔حسینہ واجد میچ فکس کرچکی تھی۔۔لیکن جماعت اسلامی بس اپنی ٹیم کی فٹنس اور کارکردگی کو دیکھ رھی تھی۔۔۔۔جو بے مثال رھی۔۔۔لیکن دوسری طرف حسینہ واجد کا ووٹر منظم طریقے سے اپنی پرانی حریف بی این پی کو ووٹ کاسٹ کرگیا اور یوں جماعت اسلامی یہ جیتا ہوا میچ ہار گئی۔۔۔لیکن اگر سمجھا جائے تو اس کی ہار بھی ہار نہیں ہے۔۔۔۔ایک ایسی جماعت جو بنگلہ دیش بننے کی مخالف تصور کی جاتی تھی۔۔اس کا اتنی سیٹیں جیت جانا بلاشبہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔۔۔۔۔۔اور اگر جماعت اسی طرح متحرک رھی تو مستقبل میں وہ واحد بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے گی۔۔۔اور ایسا ہوگا کیونکہ بنگلہ دیش جماعت
میں بوڑھوں کے ساتھ نوجوان قیادت بھی متحرک ہے۔۔۔۔
سیاست از ناٹ اے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ۔۔۔۔
یہ ٹیسٹ میچ ہے۔۔۔۔۔۔ایک اننگز میں تو حسینہ واجد اور مرحومہ خالدہ ضیاء کی جماعت مل کر جماعت کو آؤٹ کرگئیں۔۔۔لیکن دوسری اننگز میں ایسا ممکن نہیں ہوگا۔۔۔اگر یہ ٹیسٹ ڈرا بھی ہوگیا تو اگلا میچ جماعت اسلامی ہی جیتے گی۔۔۔البتہ جماعت اسلامی کو کرنا صرف یہ ہے کہ اپنی فٹنس اور ٹریننگ کو جاری رکھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ جو استقامت استقامت کی بات کرتے ہیں۔ان کو استقامت کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔۔۔۔
پھر کوئی مشکل نہیں۔۔۔۔۔۔قربانیاں رنگ لارھی ہیں۔۔۔
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔۔۔۔۔۔
اقبال کی اس نظم میں بھی ہم زیادہ فوکس اسی مصرعے پہ کرتے ہیں حالانکہ
اس کا کرنچ یہ اشعار ہیں۔
اور انہی پہ جماعت اسلامی کو عمل پیرا ہونا ہے۔۔۔۔اقبال اسی نظم میں کہتا ہے کہ
"قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشياں اور بھی ہيں”
اور پھر کہتا ہے کہ
"اگر کھو گيا اک نشيمن تو کيا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہيں۔۔۔۔”
اس کے بعد پھر وہ کہتا ہے کہ
"گئے دن کہ تنہاء تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں۔۔۔۔”
اگر اس نے بات شروع یہاں سے کی تھی کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تو بات کو پہنچایا کہاں؟؟؟؟
گئے دن کہ تنہاء تھا میں انجمن میں۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی بتا دیا کہ
یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں۔۔۔
اس کو ایک اور انداز میں منیر نیازی نے کچھ یوں کہا
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھکو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا۔۔۔۔۔
اب ڈاکٹر شفیق الرحمان ایک دریا کے پار اتر کر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔۔۔۔
یقیناً اب ان کے لئے سامنے والا دریا پار کرنا اتنا مشکل نہ ہوگا۔۔۔۔۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی دل تو پہلے ہی جیت چکی تھی۔۔۔اب اس کو الیکشن جیتنا بھی آگیا ہے جو کہ اچھا شگون ہے۔۔۔۔۔۔
آواز/شہزاد چوہدری

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.