حکومت یا کسی اور سے بیک ڈور کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: بیرسٹر گوہر
حکومت یا کسی اور سے بیک ڈور کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: بیرسٹر گوہر
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ آج سپریم کورٹ آئے تھے اور چیف جسٹس صاحب کی مہربانی سے تمام کیسز مقرر کیے گئے، جبکہ تین کیسز کل کے لیے ملتوی ہوئے ہیں۔
واٹس ایپ صارفین کیلئے نیا دلچسپ ’’کلوز فرینڈ‘‘ فیچر سامنے آگیا
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کی کال پر پنجاب میں سخت اقدامات کیے گئے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کے عوام کے تعاون پر شکر گزار ہیں، کیونکہ پنجاب، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں عوام نے احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال میں حصہ لیا۔ بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ یہ چھوٹے کاروباری نقصان کے باوجود اس بات کی علامت ہے کہ عوام اپنا مینڈیٹ بچانے کے لیے کھڑے ہیں۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی جیل منتقلی سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط ہیں، بانی پی ٹی آئی ہر دن غیر قانونی طور پر جیل میں ہیں اور انہیں سیاسی مقدمات میں رکھا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ حکومت یا کسی اور کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات نہیں ہو رہے، اور بانی پی ٹی آئی نے علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ مذاکرات کریں یا آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ زور زبردستی سے سیٹوں پر بیٹھے ہیں اور اتنی آسانی سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ 8 فروری کو 180 سیٹیں چھینی گئیں اور انہیں 91 پر لے آیا گیا، پھر یہ تعداد کم کر کے 75 کر دی گئی، اور عمر ایوب کی سیٹ بھی لے لی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے سینیٹرز پر بھی زور زبردستی کی گئی، مگر یہ دو سالوں میں عوام کے دلوں میں اپنی عزت بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔