وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد کے اندر خود کش دھماکے کے نتیجے میں چوبیس افراد شہید اور ایک سو پچاس سے زائد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کی امام بارگاہ و مسجد خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا، دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
پولیس کے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے دھماکے میں اب تک اکتیس افراد کے شہید ہونے اور ایک سو ساٹھ سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
سم کارڈز سے لاکھوں کا سونا نکال لیا، لیکن کیسے؟
اسپتال حکام کے مطابق دھماکے میں زخمیوں کی مجموعی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے جہاں پمز اسپتال میں ساٹھ، پولی کلینک میں تیرہ، فیڈرل جنرل اسپتال میں ستائیس اور بے نظیر اسپتال میں بھی دو زخمی لائے گئے ہیں۔
پمز اسپتال میں زخمیوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہونے کے باعث زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ امام بارگاہ و مسجد میں دھماکا جمعے کی نماز میں دوسری رکعت کے دوران اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، خود کش حملہ آور نے اسی دوران خود کو مرکزی دروازے پر اڑا لیا۔
آئی جی اسلام آباد نے جیو نیوز کو بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوا جو نماز پڑھنے کے لیے تین منزلہ عمارت میں موجود تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ترلائی میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔ وزیر اعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کرکے واقعے کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہرگز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
وزیر اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیر صحت کو معاملے کی نگرانی کا حکم دیا ہے۔