چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ انہیں بشریٰ بی بی نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں نے پروسیجر تجویز کیا تھا، ورنہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ شیخ اور بھابی مہرالنساء نے اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے ملاقات کی۔
روس میں آسمان پر نایاب منظر، چار چاند ایک ساتھ نظر آنے کا دلکش منظر
ملاقات کے بعد دونوں خواتین نے بشریٰ بی بی کا پیغام بیرسٹر گوہر تک پہنچایا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ آج تین ماہ بعد بشریٰ بی بی کی فیملی کو ملاقات کی اجازت ملی، جبکہ اس ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی موجود نہیں تھے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لے جانے کی تصدیق کی ہے، ملاقات صرف بشریٰ بی بی سے ہوئی اور اس دوران 8 فروری یا کسی سیاسی معاملے پر گفتگو نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے دو پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں شدید تکلیف تھی اور ڈاکٹروں نے پمز اسپتال لے جانے کی تجویز دی، جبکہ اب ان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان اپنی مرضی اور ڈاکٹروں کے مشورے پر اسپتال گئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بشریٰ بی بی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں نے پروسیجر تجویز کیا تھا، کیونکہ بصورت دیگر آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ موجود تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کی بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہو پا رہی، ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور فیملی کی ملاقات ہر صورت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج فیملی کی ملاقات ہو گئی تو کچھ تسلی ہوئی، یہ کہاں لکھا ہے کہ جیل میں سیاسی گفتگو نہیں ہو سکتی، پہلے کیا دیگر سیاسی رہنما جیل میں نہیں رہے، ایک پارٹی کے لیے ایک قانون اور دوسری کے لیے دوسرا قانون ہے، جتنا ملاقات کو روکا جائے گا اتنے ہی مسائل پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیے سے آنے والی کسی پیش کش کے بارے میں انہیں علم نہیں اور بانی پی ٹی آئی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کا جینا اور مرنا اسی ملک میں ہے۔