غلط برطرف سرکاری ملازم مکمل مراعات کا حقدار ہے، سپریم کورٹ

غلط برطرف سرکاری ملازم مکمل مراعات کا حقدار ہے، سپریم کورٹ

0

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ غلط طریقے سے برطرف کیے جانے کے بعد بحال ہونے والا سرکاری ملازم اس پوری مدت کی مکمل تنخواہ اور مراعات کا حق دار ہوگا جس دوران وہ سروس سے باہر رہا۔

جسٹس وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بنیادی اور عمومی اصول ہے کہ اگر برطرفی غلط ثابت ہو جائے تو مالی معاوضہ کوئی صوابدیدی معاملہ نہیں رہتا بلکہ ایسے ملازم کو مکمل تنخواہ ادا کی جانی چاہیے۔

پاکستان سمیت 75 ممالک کے ویزے معطل، ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت میں چیلنج

عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ یہ ہدایت اس بنیادی مقصد سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت سرکاری ملازم کو اس کی اصل معاشی حیثیت میں بحال کیا جاتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ غلط طریقے سے برطرفی محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ یہ امر یاد رکھنا ضروری ہے کہ غلط برطرفی کے معاملات میں ناانصافی کی ذمہ داری متعلقہ اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے، تاہم اس کے نتائج سرکاری ملازم کو بھگتنا پڑتے ہیں، جسے آئینی اذیت کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

عدالت کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں ایک سرکاری ملازم اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جاتا ہے، اور یہ محرومی براہ راست آئین کے آرٹیکل 9 سے جڑی ہے جو زندگی کے حق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.