**وفاقی وزیر صحت کا سانحہ گل پلازہ سے متعلق اہم انکشاف، ڈی این اے لیبارٹریز کی قلت کا مسئلہ سامنے آیا**
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد پانچ روز تک متاثرین کی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکے، جس پر وفاقی حکومت کو مداخلت کرنی پڑی۔
2 سال میں سونے کی قیمتیں دُگنی سے بھی زیادہ کیسے ہوئیں؟
وزیر صحت نے ایف سی ایریا میں ایک ڈیجیٹلائزڈ وفاقی ڈسپنسری کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے میں جدید ڈی این اے لیبارٹریاں قائم کرنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ ایمرجنسی میں فوری شناخت کا کام ممکن ہو سکے۔
انہوں نے اسی موقع پر صحت کہانی اور وزارت صحت کے تعاون سے قائم کردہ ڈسپنسری کا افتتاح بھی کیا، جو کراچی میں اس نوعیت کی تیسری اور ملک بھر میں چھٹی ڈیجیٹل ڈسپنسری ہے۔ صحت کہانی کی سی ای او سارہ سید خرم نے بتایا کہ یہ ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم ہے جو مریضوں کو معائنے کے ساتھ مفت ادویات بھی فراہم کر رہا ہے۔
وزیر صحت نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں ایسی دس ڈسپنسریز تیار کی جا رہی ہیں، جن میں سے چھ اسلام آباد اور چار کراچی میں قائم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سے 80 فیصد صحت کی ضروریات بنیادی مراکز پر پوری ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے نپاہ وائرس کے حوالے سے این آئی ایچ کے الرٹ کا ذکر کرتے ہوئے عوام کو احتیاط کی تلقین کی، لیکن یہ بھی بتایا کہ پاکستان فی الحال اس وائرس سے محفوظ ہے۔
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ ماضی کے سانحات سے سبق سیکھتے ہوئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔