جید اور معروف کہلانے والے بعض صحافیوں کی جانب سے ایسی بے شمار خبریں سامنے آ چکی ہیں جو بعد ازاں فیک ثابت ہوئیں، تاہم افسوس کہ آج تک نہ تو انہوں نے اس پر شرمندگی کا اظہار کیا اور نہ ہی عوام سے معذرت کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے افراد اخلاقی طور پر دوسروں پر تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں؟
چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے دیا
جہاں تک مجھ پر لگائے گئے الزامات کا تعلق ہے، تو میں واضح طور پر مطالبہ کرتی ہوں کہ براہِ کرم وہ تمام ثبوت منظرِ عام پر لائے جائیں جن کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نہ تو باقاعدگی سے ٹاک شوز کرتی ہوں اور نہ ہی میرے زیادہ تر پروگرام پینل ڈسکشن پر مبنی ہوتے ہیں، بلکہ عموماً ون آن ون گفتگو ہوتی ہے۔
یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ جن مبینہ “زیادتیوں” یا “ظلم” کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ میں نے کب اور کیسے کیے؟ براہِ کرم اس کی واضح مثالیں دی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
الزام لگانا آسان ہے، مگر ثبوت کے ساتھ بات کرنا ہی صحافتی دیانت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا تقاضا ہے