اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
میکسیکو: 1400 برس قدیم پُر اسرار مقبرے سے موت کا مجسمہ دریافت
پاکستانی مندوب نے غزہ میں جاری حملوں، جبری نقل مکانی اور وسیع پیمانے پر تباہی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن بنائی جائے اور غزہ کی فوری تعمیر نو کی جائے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، اور یہ ریاست 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم کی جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے۔
عاصم افتخار نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام اور لبنان میں بھی اپنی غیر قانونی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے میں مزید تین فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جبکہ حماس کی جانب سے غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی تیاریوں کے مکمل ہونے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔