سڑکوں پر بھیک مانگنے والا ایک بھارتی شخص درحقیقت کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے سرافہ علاقے میں طویل عرصے سے بھیک مانگنے والا مانگی لال خواتین و بچوں کی ترقی کے محکمہ کی بھیک مٹاؤ مہم کے دوران بے نقاب ہوا۔
متنازع ٹوئیٹس کیس: عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی
کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ مانگی لال روزانہ 500 سے 1000 روپے تک بھیک جمع کرتا تھا اور یہ رقم مقامی تاجروں کو سود پر قرض دینے میں استعمال کرتا تھا۔ وہ روزانہ سود وصول کرنے کے لیے سرافہ علاقے کا رخ کرتا تھا۔ ریسکیو ٹیم کے نوڈل افسر دنیش مشرا کے مطابق مانگی لال کے پاس شہر کے مختلف علاقوں میں تین پکے مکانات ہیں، جن میں بھگت سنگھ نگر کا تین منزلہ مکان، شیونگر میں واقع ایک گھر اور الوَاس گاؤں میں حکومت کی جانب سے فراہم کیا گیا ایک ون بی ایچ کے مکان شامل ہے۔
حکام کے مطابق مانگی لال کے پاس تین آٹو رکشے بھی ہیں جو کرائے پر چلتے ہیں جبکہ ایک ڈیزائر کار کے لیے اس نے ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔ وہ الوَاس میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ خواتین و بچوں کی ترقی نے فروری 2024 سے اندور میں بھیک مٹاؤ مہم کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت ہزاروں بھکاریوں کی نشاندہی، کونسلنگ، بحالی مراکز منتقلی اور بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا گیا، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھیک مانگنے اور اس عمل کو فروغ دینے والوں کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔