امریکا نے ایران کی جانب بڑی فوجی نقل و حرکت شروع کر دی ہے جس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوس سے واپسی پر طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ایک بڑی فورس ایران کی جانب روانہ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب احتیاطی طور پر فوجی تعیناتی کی جا رہی ہے تاہم آئندہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے کمیٹی قائم کر دی
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار موجود ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ حالات بگڑیں، تاہم ایران پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو امریکا کارروائی کرے گا، اور ان کی دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیاں روک دیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ایران میں 827 پھانسیاں رکوائیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو امریکا حملہ کر دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر جلد 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کی جانب اس فوجی پیش قدمی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر کارروائی کرے گا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور بڑی بحری اور فضائی قوت ایران کی سمت بھیجی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل کیے جائیں گے۔ غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کرے گا، تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا اس کا جواب دے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکا حملہ کر دے گا اور ایران پر ممکنہ حملہ جوہری پروگرام سے بھی بڑا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکا اس کے لیے بھی تیار ہے۔