سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے دوران 9 مئی جیسے واقعات کو دہرانے کی کوشش کی گئی۔ سینیئر وزیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے دورے سے قبل سکیورٹی تھریٹ موجود تھا جس سے انہیں آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ ان کے لیے باقاعدہ سکیورٹی پلان بھی ترتیب دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ طے شدہ روٹس اور مقامات کے برعکس دورے کیے گئے، جس کے نتیجے میں پولیس پر پتھراؤ، میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور صحافیوں سے بدسلوکی کے واقعات پیش آئے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دانستہ طور پر بدنظمی اور 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس کے باوجود حکومتِ سندھ نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی رہنما کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی۔
سندھ کے سینیئر وزیر نے وزیراعلیٰ پختونخوا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے الزام عائد کیا کہ حکومتِ سندھ نے آپ کو روکا، جبکہ آپ کو ٹریفک میں روک کر سندھ حکومت کو کیا فائدہ ہونا تھا؟ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے اور سہیل آفریدی کو جو عزت دی گئی تھی، انہوں نے اس کی لاج نہیں رکھی۔