پی ٹی آئی نے نئے میثاق جمہوریت کی دعوت دیتے ہوئے تمام جمہوری قوتوں کو اکٹھا ہونے اور اتفاق رائے سے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں بے بنیاد سیاسی مقدمات ختم کرنے، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی، اور پنجاب و سندھ حکومت کے کارکنوں کے خلاف اقدامات کی مذمت کی گئی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر آزاد کشمیر میں نادرا کی کھلی کچہریاں: شہریوں کے مسائل موقع پر حل ہوں گے
قرارداد میں کہا گیا کہ ملک ایک نازک سیاسی دور سے گزر رہا ہے، اس لیے تمام جمہوری قوتوں کو نئے میثاق جمہوریت پر متفق ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا گیا جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو، تاکہ شفاف، آزاد اور منصفانہ نئے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔
قرارداد میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ انصاف، قانونی برابری، اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے بلائے گئے امن جرگے کے اعلامیے کو تسلیم کرنے اور اس پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے لاہور دورے کی تعریف کی اور اسے جمہوری عمل میں اہم قدم قرار دیا۔