وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کی کوششوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ماضی میں بھی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا رہا، تاہم اب اقلیتی تشدد کو باقاعدہ ریاستی پالیسی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
ستھرا پنجاب پروگرام کی شہرت گلف ممالک تک جا پہنچی
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور عیسائی برادری کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مودی کے دور حکومت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مودی کی گجرات حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور ہزاروں گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت میں سکھوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے بدترین سلوک روا رکھا جا رہا ہے جبکہ اب عیسائی برادری بھی تشدد کی زد میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرسمس کے موقع پر عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے، جو مودی حکومت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت ڈیڑھ ارب آبادی کا ملک ہونے کے باوجود اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے اور مذہبی جنونیت رکھنے والی حکومت عالمی برادری کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی فنانشل ٹائمز کی ایک چشم کشا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے باہمی تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ جو قومیں تباہی کی طرف بڑھتی ہیں، وہ ایسے ہی انتہاپسندانہ رویے اختیار کرتی ہیں، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت میں مسیحی برادری کو نشانہ بنانے پر ردعمل دے گی۔