لاہور کی مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی کو جوئے کی پروموشن کے مقدمے میں فرد جرم کے لیے طلب کر لیا ہے۔ لاہور کی ضلع کچہری میں سعد الرحمان عرف ڈکی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 16 جنوری کو طلب کیا ہے۔ یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہیں چالان کی کاپیاں فراہم کی گئیں۔
عمران خان جیل میں بہت فرسٹریٹڈ ہیں: اڈیالہ جیل میں قید رہنے والےانجینئر محمد علی مرزا کی گفتگو
دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ آپ کا بغیر اجازت کے یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنا غیر قانونی ہے، آپ کو وی لاگ کی اجازت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کرنا چاہیے تھی۔ اس پر سعد الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر انہوں نے بیانِ حلفی دیا تھا اور ان کے نزدیک وہی اجازت تھی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ خود سے خود کو کیسے اجازت دے سکتے ہیں کیونکہ اجازت صرف عدالت دیتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ پراسکیوشن بھی آپ کی وی لاگنگ سے خوش نہیں۔
اس موقع پر سعد الرحمان کے وکیل نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کس چیز کی اجازت لیں کیونکہ ہم تو اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سعد الرحمان کا یوٹیوب چینل مالِ مقدمہ ہے اور این سی سی آئی نے اسے ضبط کر رکھا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وی لاگنگ کی جا سکتی ہے تاہم ضبط شدہ چینل سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنا غیر قانونی ہے۔ یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے کا چالان پیش کر رکھا ہے۔