وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اشتعال انگیزی نہ کوئی سیاسی معاملہ ہے اور نہ ہی اظہارِ رائے کی آزادی، بلکہ یہ برطانیہ اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہر ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود افراد کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے کسی دوسری خودمختار ریاست کے عوام کو بغاوت یا تشدد پر اکسانے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آرمی چیف کے قتل کے مطالبات پر مبنی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جس پر پاکستان نے برطانیہ کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ: ہارپن داس ماڈل ولیج میں پلاٹس کی قرعہ اندازی سے متعلق وضاحت جاری
وزیر مملکت نے امید ظاہر کی کہ برطانوی حکومت اس معاملے پر مؤثر کارروائی کرے گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس اس حوالے سے دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی احتجاج کے نام پر افواج کے سربراہ کو قتل کی دھمکیاں دینے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاست کے نام پر تشدد اور دھمکیوں کا سہارا لے رہی ہے، جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں جن میں آرمی چیف کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لہٰذا برطانیہ ان اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرے جو پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ پلیٹ فارمز سے مسلسل انتشار اور تشدد کی کالز دی جا رہی ہیں، اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت قتل اور تشدد پر اکسانے والوں کی شناخت کر کے تحقیقات کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے۔