روزانہ کی چائے کے ساتھ کن خوراکوں کا استعمال صحت اور ہاضمے کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے اور کن اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے، اس بارے میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلکی اور متوازن غذائیں نہ صرف ذائقہ بڑھاتی ہیں بلکہ معدے کے لیے بھی آسان رہتی ہیں، جبکہ بھاری یا تیز مصالحے والی خوراکیں پیٹ کے لیے بوجھ کا سبب بن سکتی ہیں۔
امریکی صدر کے امن معاہدے کے باوجود کانگو اور روانڈا میں پھر لڑائی شروع
تحقیق کے مطابق ایسی غذا کا انتخاب فائدہ مند ہوتا ہے جو ہلکی ہو، آئرن کم رکھتی ہو اور پروٹین کی مقدار بھی زیادہ نہ ہو، تاکہ چائے میں موجود اجزاء کے اثرات متاثر نہ ہوں۔ بھنے ہوئے چنے، بسکٹ، مکھنہ، ابلا ہوا چنا، ہلکی پروٹین والی اشیاء، کیلا اور دیگر نرم پھل، اسی طرح اجوائن یا سونف کے ہلکے نمکین ایسی مثالیں ہیں جو چائے کے ساتھ ذائقہ بھی بہتر بناتی ہیں اور معدے کے لیے بھی موزوں ثابت ہوتی ہیں۔ یہ غذائیں چائے کے تنیئنز کے ساتھ کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں کرتیں اور ہاضمے کو بوجھ کا شکار نہیں ہونے دیتیں۔
اس کے برعکس ایسی غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے جن میں بھاری پروٹین یا آئرن کی مقدار زیادہ ہو، مثلاً کچھ سبزیاں یا دالیں۔ اسی طرح تیز مصالحے، بہت زیادہ تیزابی اجزاء، آٹے یا بیسن سے تیار کی گئی بھاری اور تلی ہوئی اشیاء، زیادہ دودھ یا دہی والی غذائیں، اور ترش پھل یا ان کی سلاد چائے کے ساتھ کھانے سے ہاضمے پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور چائے کے فائدے بھی کم ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان سے اجتناب کرنے سے ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور چائے کے مثبت اثرات برقرار رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے کے ساتھ ہلکی، معتدل اور متوازن خوراک کا انتخاب ذائقے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ صحت اور ہاضمے کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔