سکردو میں بین الاقوامی یومِ خصوصی افراد شاندار انداز میں منایا گیا، جس کا اہتمام محکمہ سماجی بہبود گلگت بلتستان، قراقرم ڈس ایبیلٹی فورم اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پر خطابات، آگاہی واک، پینل ڈسکشن اور خصوصی افراد کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جبکہ معروف نعت خواں عباس عبدالی نے نعت پیش کی۔ اس تقریب کا مقصد خصوصی افراد کے مساوی حقوق، رسائی، عزت اور معاشرتی شمولیت کے لیے آگاہی پیدا کرنا تھا۔
ایران اور افغانستان کے ساتھ سفارتکاری سے مسائل حل کیے جائیں، اسد قیصر
تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان نے سرکاری اداروں میں خصوصی افراد کی نمائندگی اور ان کے لیے صحت و تعلیم کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ صلاحیت بڑھانے والے اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خصوصی افراد سے متعلق نئے قواعد منظور کر لیے ہیں جن کے تحت *Provincial Person with Disability Council* قائم کیا جائے گا، جو رہائشی اسکیموں، مفت قانونی و طبی امداد اور ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام عوامی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور خصوصی افراد کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
محکمہ سماجی بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید مجاہد شاہ کے مطابق بلتستان ڈویژن میں 7 ہزار 554 خصوصی افراد رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ NDRA رجسٹریشن کے لیے سرکاری ہسپتال سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے، سکردو اور گھانچے میں یہ سہولت موجود ہے جبکہ کھرمنگ اور شگر میں اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سکردو میں خصوصی افراد کو بااختیار بنانے کے لیے *انڈی پینڈنٹ لیونگ سینٹر* قائم کیا گیا ہے، جہاں انہیں تعلیم، تربیت اور ہنر سکھایا جا رہا ہے، اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس مقصد کے لیے اراضی کی فراہمی بھی قابلِ تحسین ہے۔
ڈپٹی کمشنر سکردو حمزہ مراد نے قراقرم ڈس ایبیلٹی فورم، رضاکاروں اور کمیونٹی اداروں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر روزگار کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خصوصی افراد کے لیے مزید شمولیتی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
پینل ڈسکشن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین پر تشدد، غلط معلومات کے پھیلاؤ، سائبر بُلنگ اور نئی ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت سے جڑے خطرات پر گفتگو کی گئی۔ پینلسٹ نے سائبر سیکیورٹی، شکایات کے مؤثر نظام اور دفاتر میں ہراسگی سے متعلق پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور خصوصی افراد کی حساسیت کے حوالے سے بھی حکام سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ان کی ضروریات کو اول ترجیح دی جائے۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں خدمات انجام دینے والوں میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں اور *انڈی پینڈنٹ لیونگ سینٹر* میں خصوصی افراد کی تیار کردہ فن پاروں اور دستکاری کی نمائش کی گئی، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ شرکاء میں کمشنر بلتستان ڈویژن، ڈپٹی کمشنر سکردو، AKRSP کے نمائندگان، سماجی بہبود کے افسران، کمیونٹی تنظیموں کے نمائندے، پرنسپل اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس، میڈیا نمائندگان اور متعدد رضاکار شامل تھے۔