اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے سات افراد کے پوسٹ مارٹم مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پمز اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے، جن میں وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی شامل ہے۔
وہ بہترین ورزش جو موٹاپے سے نجات اور ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رکھنے کیلئے انتہائی مؤثر
اسپتال کے مطابق دس شہدا کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ دو افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ اس واقعے میں کل چھتیس زخمیوں کو پمز اسپتال لایا گیا، جن میں سے اٹھارہ کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ چودہ زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے جبکہ چار افراد کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔
دوسری جانب، واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کے اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے خود ہائیکورٹ کے مرکزی گیٹ پر پہنچ کر سکیورٹی کا جائزہ لیا اور اضافی سکیورٹی انتظامات کی ہدایات جاری کیں۔ ہائیکورٹ کے باہر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے کھڑے ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔