مطالعہ پاکستان کیوں خاموش ہے؟؟؟

شہزاد چوہدری

0

مطالعہ پاکستان 11 ستمبر 1948 سے 1958 تک تقریباً خاموش ہے۔ان دس سالوں میں ہم نے پنیری کاشت کی اور پھر 1958 میں نرسری میں پودے رکھے جو نظر بھی آنے لگے۔1958 کے بعد تقریباً ہمیں سب اندازہ ہے کہ کیا ہوا۔
لیکن سچ پوچھیں کے 1971 تک ہمیں آدھا سچ ہی پتہ ہے۔پورا سچ 1971 کے بعد بھی نہیں پتہ۔لیکن بہرحال اس کے بعد تقریباً چیزیں نظر آنا شروع ہوگئیں۔ اس سے پہلے والی کہانی دلچسپ بھی ہے اور سننے والی بھی۔
جو کچھ 1971 میں ہوا ۔یہ سب اچانک نہیں ہوگیا۔اس کی کڑیاں بہت پیچھے تک جاتی ہیں۔جہاں ہمارا راوی خاموش ہے۔ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ راوی کی خاموشی بھی بلیسنگ ہے۔کیا کرنا ان تلخ یادوں کو جان کے۔ماضی کی اندھیری کال کوٹھڑیوں میں بہت گھٹن ہے۔اچھا اجلا پاکستان ہے اس وقت۔ہمیں اس کی فکر کرنا چاہئے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک چھوٹا سا پھوڑا کینسر بنا اور پھر جسم کا ٹکڑا جدا کرنا پڑگیا۔
ہم سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ نہیں جانتے اور کچھ نہ جاننے کے باوجود سب کچھ جانتے ہیں۔ممنوع علاقہ کے بورڈ تو آنکھوں سے دیکھے ہیں لیکن ممنوع ایرا یا ممنوع زمانہ کا بورڈ کہیں نہیں پڑا۔قائداعظم محمد علی جناح پہلے گورنر جنرل تھے۔دوسرے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین تھے۔1951 میں ملک غلام محمد تیسرے گورنر جنرل بن گئے۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد دوسرے گورنر جنرل وزیراعظم بن گئے۔1955 میں سکندر مرزا گورنر جنرل بن گئے۔1956 کے آئین کے تحت گورنر جنرل سکندر مرزا صدر سکندر مرزا بن گئے۔
پھر اس آئین کو معطل بھی سکندر مرزا نے کیا اور مارشل لاء لگادیا۔اس دوران 6 وزیراعظم بھی بنے اور ختم ہوئے۔پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 1951 میں قتل کردیا گیا۔ان کے بعد خواجہ ناظم الدین وزیراعظم بنے ان کے بعد محمد علی بوگرہ ،پھر چوہدری محمد علی اور ان کے بعد حسین شہید سہروردی،ابراہیم اسماعیل چندریگر،فیروز خان نون،نورالامین،بھی ہمارے وزیراعظم رھے۔ان سب کے بارے میں ہمیں سب پتہ ہونا چاھیے۔کچھ کچھ پتہ ہے۔لیکن سکندر مرزا کے بارے میں تقریباً پتہ ہے۔ سکندر مرزا پھر ایوب خان اور اس دوران یحییٰ خان ان کے بارے میں اگر پڑھا نہیں تو سن رکھا ہے۔
ملک غلام محمد کو گورنر جنرل سے ہٹانے میں سکندر مرزا کا بڑا کردار تھا۔جس کے بعد وہ گورنر جنرل اور پھر پہلے صدر بن گئے۔اپنے دور صدارت میں انہوں نے 4 وزرائے اعظم برطرف کئے۔اور پھر اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم فیروز خان نون کو برطرف کرکے مارشل لاء لگادیا۔سکندر مرزا نے اپنے فوجی کمانڈر ایوب خان کے ذریعہ مارشل لاء لگوایا۔اور پھر ایوب خان ہی نے انھیں برطرف کردیا۔
اس کے بعد جنرل یحییٰ خان کی انٹری ہوتی ہے۔وہ پاکستان کے پانچویں فوجی سربراہ اور تیسرے صدر بنے۔انھیں ایوب خان نے 1966 میں بری فوج کا سربراہ مقرر کیا۔1969 میں جب ایوب خان نے استعفیٰ دیا تو یحیٰی خان نے صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔اب ایک بات اور ہے ابھی کسی کے کسی سکینڈل کی بات اس آرٹیکل میں نہیں کی۔حالانکہ ملک غلام محمد سے سکندر مرزا اور پھر یحیٰی تک وہ بھی ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ جنھیں سن کے بندہ حیران و پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا جسم بھی نوچے
کہ یہ کون لوگ تھے۔لیکن ایک گلہ بھی ہے ادبی گلہ کہ قدرت اللہ شہاب جیسے لوگ بھی ان کے راوی تو ہیں لیکن ان کی اخلاقی تربیت نہ کرسکے۔قدرت اللہ شہاب کا کردار بھی انتہائی دلچسپ ہے اس پہ ایک تفصیلی کالم تھا۔آپ کو ایک بات بتاوں کہ
میں یونیورسٹی دور سے کہتا آیا ہوں کہ قدرت اللہ شہاب،جاوید چوہدری اور شہزاد چوہدری اچھا لکھتے ہیں لیکن ایک بات ان میں کامن یعنی مشترک ہے کہ آخر میں وہ یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ وہ ہیں ایسا کوئی اور نہیں۔اگر نہ بھی کہیں تو ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے۔اس ٹاپک پہ پھر کبھی ان شاءاللہ۔فلحال اپنی بات کو کنکلوڈ کرتے ہیں۔
1970 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان اور شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کرلی۔عوامی لیگ نے 160 اور پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کیں۔حکومت بنانے کے لئے 151 درکار تھیں۔
باتیں تو سب سمجھ آتی ہیں۔پہلے عوامی لیگ کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیاگیا پیپلز پارٹی نے یہ بات تسلیم کرلی۔لیکن اس کے بعد چند ہی سال بعد پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کے ساتھ کیا ہوا؟؟؟باتیں تو سب غور طلب ہیں لیکن ہم غور کرنا نہیں چاھتے۔۔۔۔۔۔
ویسے بھی ہم غور کرکے کیا کریں گے۔۔
یقین جانیں یہ سب فضول بک بک ہے۔میں بالکل فارغ اور نکما آدمی کبھی کبھی اویں کسی اور بات کا غصہ ان سب پہ نکالتا ہوں۔
سب اچھا ہے
ہم زندہ قوم ہیں
پائندہ قوم ہیں۔
ایٹمی قوت ہیں۔
اسٹاک ایکسچیج مسلسل اوپر جارھی ہے۔۔۔۔۔
چھوڑیں یاد ماضی
وہ تو سرا سر عذاب ہے۔۔۔
میں آپ کو بتاوں کہ ویلکم مووی میں نانا پاٹیکر نے اتنی عمدہ ایکٹنگ کی ہے کہ مزہ آجاتا ہے۔جب وہ کہتا ہے کنڑول اودھے کنٹرول۔
اور پھر ویلکم بیک میں نصیر الدین شاہ نے ایسا کردار نبھایا کہ ناناپاٹیکر سمیت سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔
مجھے اس کا ایک ڈائیلاگ یاد ہے
مذاق تھا بھائی مذاق۔۔۔۔
یہ بھی کالم نہیں تھا۔
مذاق تھا بھائی مذاق۔۔۔۔۔۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.