سپارک،ریسجاکے اشتراک سے ورلڈ سپورٹس جرنلسٹ ڈے منایاگیا
اسلام آباد(نیوزڈیسک) سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک)اور راولپنڈی اسلام آباد سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ریسجا)کے باہمی اشتراک سے ورلڈ سپورٹس جرنلسٹ ڈے منایاگیا۔
دن منانے کا مقصد سپورٹس جرنلسٹس کی نوجوانوں میں صحت مندانہ سرگرمیوں کو متعارف کرانے کاوشوں کو تسلیم کرنا ہے ۔
کنٹری ہیڈ کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز (سی ٹی ایف کے)ملک عمران احمدنے کہا کہ ہمارے ملک کی تقریبا 65% آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے پاکستان میں کھیلوں کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کھیلوں کو فروغ دینا درحقیقت ایک صحت مند، مستعداور مصروف نوجوان طبقے کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کھیلوں میں باقاعدگی سے حصہ لینے سے صحت کے مسائل جیسے موٹاپے، قلبی امراض اور دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے اور انہیں سگریٹ نوشی جیسی تباہ کن عادتوں سے دوررکھنے میں بھی مددملتی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے حکومت آمدنی حاصل کرنے کے مزید طریقے متعارف کروا سکتی ہے،مثلاً جیسے سگریٹ پر زیر التوا ہیلتھ لیوی بل2019کونافذکیاجائے۔اس فیصلے سے صحت عامہ کی صورتحال بھی بہتر ہوگی اور معیشت بھی مضبوط ہوگی۔
اسپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ مالکان تمباکو کی صنعت کوفروغ دینے کے لئے پاکستانی بچوں کو ہدف بنائے ہوئے ہیں ۔ ہم سب کو تمباکو کی صنعت کی طرف سے متعارف کروائی جانے والی تمباکو نوشی اور اس سے متعلقہ تمام نقصان دہ مصنوعات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور کھیلوں کی تقریبات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ مستقبل کے پاکستانی بچے اور نوجوان صحت مند ہوں۔
ان کا کہناتھا کہ حکومت بچوں کو بری عادات سے دور رکھنے کے لیے سگریٹ کو مہنگا کر کے نوجوانوں میں غیر صحت بخش انتخاب کو ختم کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا 31.9 ملین بالغ جن کی عمریں 15 سال یا اس سے زیادہ ہیں تمباکو مصنوعات کے استعمال کی لت میں لتھڑے ہوئے ہیں ، ہر سال 160,000 سے زیادہ اموات تمباکو نوشی یا اس سے جڑی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
۔ڈاکٹر خلیل نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صحت عامہ کے تحفظ اور تمباکو کی صنعت کے ذریعے بچوں کے استحصال کو روکنے کے لیے فعال اقدامات کرے۔