پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز بابر اعظم کے لیے خوشخبری ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
آپریشن غضب للحق سے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں65 فیصد کمی
عدالت نے بابر اعظم کی درخواست منظور کر لی، جس میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی، جس میں الزام تھا کہ بابر اعظم نے شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کیے اور بعد میں انکار کیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں اور طویل عرصے تک خاموش رہنا غیر معمولی ہے۔ صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ کافی نہیں، اور الزام کی تائید کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، لہٰذا یہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا اور کالعدم قرار دیا گیا۔