sui northern 1

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات؛ پی ایس بی کا ملک بھر کے کلبوں کی سکروٹنی کا آغاز

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات؛ پی ایس بی کا ملک بھر کے کلبوں کی سکروٹنی کا آغاز

0
Social Wallet protection 2

پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے آئندہ انتخابات کے عمل کو شفاف، معتبر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ملک بھر کے ہاکی کلبوں کی سکروٹنی کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اہم قدم پی ایس بی-پی ایچ ایف آئین، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی سفارشات اور دونوں اداروں کے درمیان طے شدہ انتخابی فریم ورک کی روشنی میں اٹھایا جا رہا ہے۔ پی ایس بی کے ترجمان نے میڈیا کی بعض رپورٹس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل میں کسی بھی مخصوص گروہ، فرد یا دھڑے کی حمایت نہیں کی جا رہی بلکہ تمام تر کارروائی میرٹ، دستاویزی شواہد اور تصدیقی معیار کی بنیاد پر انجام دی جا رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس کے برعکس پھیلایا جانے والا کوئی بھی تاثر سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔

sui northern 2

سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر، آٹا مزید مہنگا ہونے کا امکان

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی ہاکی کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ کلبوں کی اس طرح کی منظم اور قابلِ تصدیق سکروٹنی کی جا رہی ہے، جسے ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ عمل ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی، یاسر پیرزادہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف گورننس کا نتیجہ ہے۔ سکروٹنی کا آغاز ان کلبوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو پہلے ہی قائمہ کمیٹی کو فراہم کیے جا چکے تھے۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں پی ایس بی کا ایک نامزد رکن ضلع کی سطح پر اور پی ایچ ایف کے نامزد کردہ رکن شہباز سینئر شامل ہیں۔ اس پورے عمل میں ڈیٹا کی جانچ پڑتال، خامیوں کی درستی اور حتمی منظوری کا ایک باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ پی ایچ ایف کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ کل 1,156 کلبوں میں سے بادی النظر میں 883 کلب جسمانی تصدیق کی شرط پر اہل پائے گئے ہیں کیونکہ ان کے پاس 14 سے 30 سال کی مقررہ عمر کے کم از کم 14 کھلاڑی موجود ہیں۔ دوسری جانب، 273 کلب بادی النظر میں نااہل قرار دیے گئے ہیں کیونکہ وہاں کھلاڑیوں کی تعداد کم ہے یا وہ عمر کی مقررہ حد پر پورا نہیں اترتے۔ اسی طرح پی ایچ ایف نے قائمہ کمیٹی کو 85 اضلاع کی فہرست دی تھی جو ووٹنگ کے اہل تھے، لیکن آن لائن پورٹل کے ڈیٹا سے موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں سے 19 اضلاع میں پانچ سے کم رجسٹرڈ کلب ہیں، جس کی وجہ سے یہ اضلاع کانگریس میں ووٹ دینے کے اہل نہیں بنتے۔ ترجمان کے مطابق یہ حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ سکروٹنی کا عمل غیر جانبدارانہ انداز میں جاری ہے۔

اگلے مرحلے میں پی ایس بی ہفتہ، 17 جنوری 2026 سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے کلبوں کی جسمانی تصدیق کا آغاز نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم اسلام آباد سے کرے گا۔ سکروٹنی کے دوران جن کلبوں کے ریکارڈ میں تضاد یا خامیاں ملیں گی، انہیں اعتراض یا اپیل دائر کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بدنیتی یا سیاسی شکایت کا ازالہ ہو سکے اور پورا عمل منصفانہ رہے۔ کسی بھی غیر حل شدہ اعتراض یا اپیل کا حتمی فیصلہ پی ایس بی کی جانب سے پہلے سے نوٹیفائی کردہ پینل آف ایڈجوڈی کیٹرز کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.