غیر رجسٹرڈ وی پی این سروسز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
غیر رجسٹرڈ وی پی این سروسز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
پاکستان میں صارفین کو غیر رجسٹرڈ وی پی این کی موبائل اور ڈیسک ٹاپ ایپس کے ساتھ ساتھ براؤزر ایکسٹینشن کے استعمال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے یہ شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ مقبول ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک سروس ‘پروٹون وی پی این’ وقفے وقفے سے کام کرنا بند کر رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سروس کبھی بحال ہو جاتی ہے اور کبھی اچانک کنکشن منقطع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے آن لائن رازداری اور آزادانہ انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس صورتحال کو "آن اور آف” قرار دیا جا رہا ہے۔
پنجاب: تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں توسیع کی خبریں بے بنیاد قرار
پروٹون وی پی این ایک سوئس کمپنی کی سروس ہے جو عالمی سطح پر ڈیجیٹل پرائیویسی اور سنسرشپ سے بچاؤ کے لیے مشہور ہے اور ماضی میں اس کا پروٹوکول پاکستان میں کافی مؤثر سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی کارکردگی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ ماہرین اس صورتحال کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے غیر رجسٹرڈ وی پی این سروسز کے خلاف کیے جانے والے حالیہ اقدامات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جن میں ڈیپ پیکٹ انسپیکشن (DPI) جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔
اگرچہ حکام کی جانب سے پروٹون وی پی این کی باضابطہ بندش کے حوالے سے تاحال کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، لیکن صارفین کو درپیش تجربات سے اس سروس پر عملی پابندیوں کا تاثر مل رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام تر صورتحال حکومت کی ان نئی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے جن کا مقصد ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک اور وی پی این کے استعمال کو ریگولیٹ کرنا ہے۔