ایران سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی اور ایرانی اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کوئٹہ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں فی کلو قیمت 250 روپے سے بڑھ کر 500 روپے تک جا پہنچی، یعنی تقریباً 100 فیصد اضافہ۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
اسی طرح مظفر گڑھ میں بھی ایل پی جی مہنگی ہو گئی ہے، جہاں فی کلو قیمت 530 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 5800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ملک کے دیگر شہروں میں بھی سرکاری نرخوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایل پی جی مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ ڈیلرز کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ایران سے گیس کی سپلائی میں کمی ہے، جس نے مارکیٹ میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درآمدی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار بھی شدید متاثر ہوں گے۔