شرجیل انعام میمن، جو سندھ کے سینئر وزیر ہیں، نے ایم کیو ایم پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم بلدیاتی اداروں کے اختیارات کی بات تو کرتی ہے لیکن انتخابات سے بھاگ جاتی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ سینٹ پیٹرک اسکول میں گراؤنڈ بنانے کے لیے منظوری دی گئی ہے، جبکہ مزارات اور مذہبی مقامات پر ترقیاتی کاموں کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔
علی ظفر ہتک عزت کا کیس جیت گئے، عدالت کا میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنےکا حکم
صوبائی وزیر نے ایم کیو ایم پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کی بات کرتی ہے مگر بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی ہے، اور فاروق ستار کی باتوں کو اہمیت نہ دی جائے کیونکہ وہ ان دنوں پریشان ہیں۔
شرجیل میمن کے مطابق صوبے میں اسکول، کالجز اور جامعات میں تدریسی عمل کل سے بحال ہو جائے گا، اور سندھ میں آن لائن کلاسز کے بجائے فزیکل کلاسز ہوں گی، جبکہ ہفتے میں دو دن تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
دوسری جانب اسی پریس کانفرنس میں شریک وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ گھوٹکی، کشمور، شکارپور اور دیگر اضلاع سے انتہائی مطلوب ڈاکو ہتھیار ڈال چکے ہیں، اور کچے کے علاقے میں آپریشن نجات مہران کے باعث امن قائم ہوا ہے، یہ آپریشن گھوٹکی، سکھر، شکارپور، کشمور اور جیکب آباد میں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کچے کے 393 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے ہیں اور سکھر سے بہاولپور تک کا سفر جو پہلے مشکل تھا، اب محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
ضیاء لنجار کے مطابق کندھ کوٹ اور جیکب آباد میں اے ٹی سی کے ججز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے، جبکہ دادو سیشن کورٹ میں پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کا فیصلہ بہت اہم تھا اور کوشش کی گئی کہ کسی بھی فریق کو نقصان نہ پہنچے، جبکہ فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔