آج کے دور میں ترقی کے لئے متنوع صنعتی نظام کا ہونا کسی بھی ملک کے لئے ایک ریڑھ کی ہدی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جب بات صنعتی ترقی اور صنعتی نظام کو بہتر طور پر فعال کرنے کی ہو تو ملک میں توانائی کی پیداوار اور اس کی ترسیل کا نظام خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ صنعتوں کو اپنا پہیہ چلانے کے لئے توانائی کی متواتر ترسیل یقینی بنانے کے لئے ملک میں توانائی کی پیداوار کا مضبوط نظام درکار ہوتاہے اور آج کل کے مسابقتی دور میں توانائی کی پیداواری لاگت کو کم سے کم کرنا ممالک کی اہم ترجیح ہے۔ اب بیشتر ممالک مہنگی بجلی خریدنے یا اسے پرانے طریقوں سے پیدا کرنے پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ گرین انرجی کی جانب توجہ دی جا رہی ہے۔ چین کی بات کی جائے تو یہ ملک دنیا کا کارخانہ کہلاتا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں ، کسی ملک کے کسی بھی شہر میں ہوں، قوی امکان ہے کہ آپ کے ارد گرد کو بھی اشیاء ہوں گی ، ان میں سے اکثر میڈ ان چائنا ہی ہوں گی۔ یہ ملک دنیا کی صنعتی اور سپلائی چین میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور اس کے مختلف شہر اور علاقے متنوع صنعتوں میں اسپیشلائزڈ ہیں۔ ان تمام صنعتوں کو چلانے کے لئے چین کے پاس دنیا کا سب سے بڑا توانائی کا نظام موجود ہے۔ یہاں توانائی اور بجلی کے شعبے کی سبز منتقلی یعنی گرین ٹرانزیشن چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کا ایک بنیادی ستون بن چکی ہے۔ چین کے توانائی ماہرین اور سرکاری اداروں کے مطابق، صاف اور کم کاربن توانائی کی جانب پیش رفت نہ صرف چین کی صنعتی و معاشی ضروریات کو پورا کر رہی ہے بلکہ یہ جدید چینی ترقیاتی ماڈل کی مضبوط بنیاد بھی بن گئی ہے۔ گزشتہ برس چین کی مجموعی بجلی کھپت پہلی مرتبہ دس ٹریلین کلو واٹ آور سے تجاوز کر گئی، اس طرح چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جو سالانہ بنیادوں پر اس مقدار میں بجلی استعمال کرتا ہے۔ یہ مقدار امریکہ، یورپی یونین، روس، بھارت اور جاپان کی مجموعی بجلی کھپت سے بھی زیادہ ہے، جو چین کے توانائی نظام کے حجم اور وسعت کو نمایاں کرتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں چین کی بجلی کھپت پانچ ٹریلین سے بڑھ کر دس ٹریلین کلو واٹ آور تک پہنچنا چین کے مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس ہونے، بڑی آبادی، اور توانائی کے تحفظ کی صلاحیتوں میں جامع بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بجلی نہ صرف عوامی زندگی میں استعمال ہو رہی ہے بلکہ گرین ٹرانسفارمیشن کے عمل کو بھی مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہے، جو چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ حالیہ عرصے میں چین نے ایک ایسا بجلی کا نظام قائم کر لیا ہے جو مستحکم، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست ہے۔ اس نظام کی بنیاد صاف اور کم کاربن بجلی پیدا کرنے والے ذرائع، مؤثر اور باہم مربوط ترسیلی نیٹ ورک، اور لچکدار اور ذہین تقسیم کے نظام پر ہے۔ یہ جدید پاور انفراسٹرکچر چین کی صنعتی اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ عرصے کے دوران چین نے نئی قسم کے توانائی نظام کی تشکیل کو تیز کرتے ہوئے جدت پر مبنی ترقی کو اپنایا ہے۔ گرین اور کم کاربن منتقلی کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ نئی پیداواری قوتوں اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تیز رفتار اور معیاری ترقی دیکھی جا رہی ہے۔
چین کے دریائے یانگسی پر دنیا کا سب سے بڑا گرین انرجی کاریڈور قائم کیا گیا ہے، جہاں دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور مصنوبے گرین انرجی پیدا کر رہے ہیں ، جن میں تھری گارجز ڈیم اور بائی ہتھان ڈیم کا نام قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ چین میں دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا نظام کام کر رہا ہےاور خصوصاً ملک کے مغربی علاقوں میں بہت سے بڑے پراجیکٹس اس مقصد کے لئے لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چین میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا بھی ایک مضبوط نظام قائم ہے اس میں متعدد آن شور اور آف شور پراجیکٹس کام کر رہے ہیں۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا یہ نظام گزشتہ پندرہ برس سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
یہاں ایک بات خصوصی طور پر قابل توجہ ہے کہ گرین انرجی کا کوئی بھی شعبہ لے لیں، اس کے لئے تمام ٹیکنالوجی، آلات اور پرزہ جات زیادہ تر چین کی جانب سے گھریلو طور پر تیار کیے جاتے ہیں، سو یہ ملک اس ضمن میں کافی حد تک خود کفیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی صنعتوں کو توانائی کی ترسیل میں کبھی کوئی خلل نہیں آتا اور ان کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے، اور نتیجتاً دنیا کے ہر کونے میں میڈ ان چائنا اشیاء کی ترسیل بھی قائم رہتی ہے۔