اسلام آباد ہائی کورٹ نے موٹر سائیکل ایم ٹیگ کیس کی سماعت کے دوران طلبہ کے لیے رعایت دینے پر زور دیا اور کہا کہ طلبہ کو ہراساں نہ کیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ ایم ٹیگ کیوں لازمی بنایا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ کونسل نے بتایا کہ کچہری دھماکے کے بعد سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لازمی کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ملازمین سول سرونٹس نہیں بلکہ پبلک سرونٹس ہیں، سپریم کورٹ
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب وہ خود اسٹوڈنٹ تھے، طلبہ کے لیے رعایت دی جاتی تھی، اس لیے عوام کی حفاظت کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ریلیف اور رعایت دینی چاہیے اور انہیں ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو حکم دیا کہ انتظامیہ کا جواب جمع کروایا جائے اور سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔