عیدالفطر عالم اسلام کا ایک اہم مذہبی تہوار ہے جو ماہِ رمضان المبارک کے اختتام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان ہر سال اس دن کو بڑی عقیدت، خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ یکم شوال کو عیدالفطر کہا جاتا ہے۔ عید کا لفظ عربی زبان سے لیا گیا ہے جس کے معنی خوشی، جشن، فرحت، چہل پہل اور انعامات حاصل ہونے کے ہیں، جبکہ فطر کے لفظ کے مختلف معنی بیان کیے جاتے ہیں جن میں اختتام اور ایک نئے آغاز کا مفہوم بھی شامل ہے۔ عیدالفطر کے دن رمضان کے روزوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو روزوں اور رمضان کی عبادات کا اجر عطا فرماتے ہیں، اسی وجہ سے اس دن کو عیدالفطر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
مسلمانوں کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ عید کے موقع پر ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کس طرح اہتمام فرمایا کرتے تھے تاکہ ہم بھی اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے اس خوشی کے دن کو منائیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کی سنتوں کی پیروی کر سکیں۔ عیدالفطر کے موقع پر بعض اہم سنتیں بیان کی جاتی ہیں جن میں عید کا چاند نظر آنے کے بعد تکبیرات کہنا، صدقہ فطر ادا کرنا، غسل کرنا، اچھا لباس پہننا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا شامل ہیں۔ اسی طرح نمازِ عید سے پہلے طاق کھجوریں کھانا بھی سنت ہے۔ نبی کریم ﷺ عید کی نماز ادا کرنے کے لیے عید گاہ تشریف لے جاتے تھے، اکثر پیدل جاتے اور جاتے ہوئے تکبیرات پڑھتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ عید گاہ ایک راستے سے جاتے اور واپسی پر دوسرا راستہ اختیار کرتے تھے۔ عید کے دن مسلمانوں کا ایک دوسرے کو مبارکباد دینا بھی رواج ہے اور اس موقع پر یہ دعا دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی عبادتوں کو قبول فرمائے۔
عیدالفطر کی رسومات میں مسلمانوں کا آپس میں بغل گیر ہونا، ایک دوسرے کو عید مبارک کہنا اور خوش دلی کے ساتھ ملاقاتیں کرنا شامل ہے۔ اس موقع پر رشتہ داروں اور دوستوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے، لوگ نئے کپڑے پہنتے ہیں اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ گھروں میں مختلف قسم کے کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور بعض جگہوں پر میلے ٹھیلے بھی منعقد ہوتے ہیں جن میں مقامی ثقافت اور روایات کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ اس طرح عیدالفطر نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی اور ثقافتی خوشیوں کا بھی ایک اہم موقع بن جاتی ہے۔
طبی ماہرین نے کرونا وائرس کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا، جن کے مطابق لوگوں کو ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے یا ہاتھ ملانے سے گریز کرنا چاہیے اور زیادہ تر وقت گھروں میں گزارنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی لاپرواہی سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو خطرے سے بچایا جا سکے۔
آخر میں دعا کی جاتی ہے کہ اللہ رب العزت ہماری رمضان المبارک کی عبادات کو قبول فرمائے اور ہمیں عید کی خوشیاں اپنے پیارے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق منانے کی توفیق عطا کرے۔