Gas Leakage Web ad 1

غفلت چھوڑ دیجئے۔۔۔! رخصت ہُوا چاہتا ہے رمضان الکریم

غفلت چھوڑ دیجئے۔۔۔! رخصت ہُوا چاہتا ہے رمضان الکریم

0

مولانا محمد الیاس گھمن نے رمضان المبارک کی اہمیت اور اس کے تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے اس عظیم مہینے کے بارے میں ارشاد فرمایا:

Gas Leakage Web ad 2

’’یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ اللہ کی رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام اور ملازم کے بوجھ کو ہلکا کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینے میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے لیے ہیں اور دو چیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔ جو شخص کسی روزے دار کو پانی پلائے گا تو رب تعالیٰ قیامت کے دن میرے حوض سے اسے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ)

انہوں نے کہا کہ ہمیں پورے مہینے اس بابرکت زمانے کی دل و جان سے قدر کرنی چاہیے اور اس کے تقاضوں کو شرائط اور آداب کے ساتھ پورا کرنا چاہیے۔ اس دوران توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے، ذوق و شوق سے تراویح ادا کرنی چاہیے، وتر کا اہتمام کرنا چاہیے اور خوب دعائیں مانگنے کے بعد جلد سونا چاہیے تاکہ سحری کے وقت اٹھنے میں دشواری نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب سحری کا وقت ہو تو خوش دلی کے ساتھ بیدار ہونا چاہیے، گھر والوں کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہیے، وضو کرنا چاہیے اور تہجد ادا کرنی چاہیے بلکہ کوشش ہونی چاہیے کہ تہجد زندگی بھر کا معمول بن جائے۔ حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے۔ سحری ضرور کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے اور اسے برکت والا کھانا قرار دیا ہے۔ بچوں کو بھی سحری کی عادت ڈالنی چاہیے اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔

کھانا کھانے کے بعد اگر وقت باقی ہو تو قرآن کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار، توبہ استغفار اور دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ مرد حضرات کو چاہیے کہ وہ مساجد میں آکر تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کریں اور اگر مسجد میں درس قرآن کا اہتمام ہو تو اس میں بھی شریک ہوں۔ نماز فجر کے بعد اشراق تک ذکر و اذکار میں مشغول رہیں اور نماز اشراق ادا کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا اجر ایک مکمل حج یا عمرے کے برابر ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مساجد میں شور و غل سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ یہ عمل نیکیوں کو ایسے ختم کر دیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ مسجد سے واپس آ کر اپنے کاموں میں مصروف ہونا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ زبان سے کوئی غلط بات نہ نکلے۔ حدیث میں یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جھگڑا کرنے کی کوشش کرے تو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پورے دن اپنی زبان، آنکھوں، کانوں اور تمام اعضاء کی حفاظت کرنی چاہیے۔ زبان کو جھوٹ، غیبت، بہتان، چغلی، الزام تراشی، گالی گلوچ، گانے اور فضول گفتگو سے بچانا چاہیے اور کسی کے دل کو دکھانے یا کسی کی بے عزتی کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ آنکھوں کو حرام امور سے اور کانوں کو خلافِ شرع باتوں جیسے غیبت سننے، فضول گفتگو اور نامحرم کی غیر ضروری باتیں سننے سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ اسی طرح دل کو حسد، بغض، کینہ، عداوت، نفرت، تکبر، غرور اور بڑائی جیسے جذبات سے پاک رکھنا چاہیے، باہمی رنجشیں ختم کرنی چاہیے، جن سے بول چال بند ہو ان سے دوبارہ تعلق قائم کرنا چاہیے اور صلہ رحمی کو عام کرنا چاہیے۔ حدیث مبارک میں آیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو روزے سے سوائے بھوکا پیاسا رہنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

انہوں نے قرآن کریم کے پانچ بنیادی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پہلا حق ایمان ہے، یعنی اس بات پر یقین رکھنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرئیلؑ کے ذریعے نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا، یہ تحریف سے پاک ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے اور اس میں بیان کی گئی ہر بات حق اور سچ ہے۔

دوسرا حق تلاوت ہے، کیونکہ قرآن کی تلاوت باعثِ ثواب ہے اور یہ قرآن کا ہم پر حق بھی ہے۔ تیسرا حق غور و فکر ہے، یعنی اس کے اوامر و نواہی کو سمجھنا، یہ جاننا کہ مختلف مواقع پر قرآن ہمیں کیا ہدایت دیتا ہے اور اس میں بیان کردہ کامیاب اقوام کے واقعات سے سبق اور تباہ شدہ اقوام کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا۔

چوتھا حق عمل ہے، یعنی قرآن کریم میں بیان کردہ احکامات پر عمل کرنا۔ پانچواں حق تبلیغ، تحفیظ اور تنفیذ ہے، یعنی قرآن کی اشاعت، حفاظت اور اس کے نفاذ کے لیے بھرپور کوشش کرنا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کی تلاوت ان حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنی چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ باوضو ہو کر، خوشبو لگا کر، قبلہ رخ بیٹھ کر ادب اور غور و فکر کے ساتھ تلاوت کی جائے۔ سجدہ تلاوت جیسے امور کو نظر انداز نہ کیا جائے اور اگر ترجمہ یا تفسیر کے ساتھ پڑھنا چاہیں تو مستند علمائے حق کی تفاسیر سے رہنمائی حاصل کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گھروں، دفاتر یا زمینوں پر کام کرنے والے ملازمین کے کام میں آسانی پیدا کی جائے اور تمام نمازیں وقت پر ادا کی جائیں۔ افطاری کی تیاری میں گھر والوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ سختی کے بجائے نرمی اور درگزر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ افطار کرانے کی عادت بھی اپنانی چاہیے کیونکہ حدیث میں اس کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ افطار کے وقت مساجد میں شور و غل اور بچگانہ حرکات مسجد کے تقدس کے خلاف ہیں، اس لیے ان سے سختی سے بچنا چاہیے۔ نماز مغرب کے بعد چھ رکعت اوابین پڑھنے کو معمول بنانا چاہیے۔ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت نماز ادا کرے اور اس دوران کوئی بری بات نہ کرے تو اسے بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نماز عشاء کے لیے مکمل تیاری کرنی چاہیے اور اذان کے ساتھ ہی مسجد پہنچنا چاہیے، نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنی چاہیے اور رمضان المبارک کی اہم عبادت یعنی تراویح کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ بعض لوگ تراویح کے دوران مسجد میں بیٹھ کر فون کالز یا پیغامات میں مصروف رہتے ہیں یا مختلف بہانے بنا کر وقت ضائع کرتے ہیں اور جب امام رکوع میں جاتا ہے تو جلدی سے شامل ہو جاتے ہیں، ایسی عادات سے خود کو بچانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگنی چاہئیں، اپنے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے، اپنے ملک کے لیے اور پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اس کے بعد جلد گھر واپس آ کر اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے کچھ وقت کے لیے اپنے دن کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اچھا عمل کیا ہو تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر کوئی غلطی یا گناہ سرزد ہوا ہو تو فوراً توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ اس سے بچنے کا عزم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات دل کھول کر کرنا چاہیے، زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے اور آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام کرنا چاہیے۔ لیلۃ القدر کی تلاش کے لیے اعتکاف کو بہترین عمل قرار دیا جاتا ہے اور اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ صدقہ فطر اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت مستحق افراد کو ضرور یاد رکھنا چاہیے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.