بھارت سے آنے والے مشرقی دریا پاکستان میں پانی کی آلودگی کا بڑا سبب بن گئے ہیں۔
ادارہ برائے تحقیق آبی وسائل (PCRWR) کی پانی کے معیار سے متعلق رپورٹ میں پنجاب کے بڑے شہروں میں پانی کو آلودہ اور مضر صحت قرار دے دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دریائے راوی اور ستلج سرحد پار سے مضر صحت دھاتیں اور آلودگی پاکستان لا رہے ہیں۔
ایندھن بچت پالیسی، لاہور ہائیکورٹ کا ہفتے میں چار دن کام کرنے کا فیصلہ
پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق دریائے راوی میں مضر صحت دھاتوں کی مقدار زیادہ پائی گئی جبکہ دریائے ستلج میں بھی سرحد پار سے آنے والے پانی میں دھاتوں کی مقدار پائی گئی۔ سرحد پار سے آنے والے نالے فاضلکہ ڈرین، قصور نالہ اور ہدیارا ڈرین بھی آلودگی لا رہے ہیں۔
رپورٹ میں اسلام آباد کا 34 فیصد پینے کا پانی بھی آلودہ اور مضر صحت قرار دیا گیا ہے۔ سملی ڈیم کا 69 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں رہا جبکہ اسلام آباد کے ندی نالوں میں 74 فیصد آلودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ راول ڈیم واٹر سپلائی کا 44 فیصد پانی بھی غیر محفوظ ہے اور راول ڈیم میں پانی صاف کرنے کے نظام کی کارکردگی میں مسائل پائے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بھارت نے مارچ 2026 تک دریائے راوی کا سرپلس پانی روکنے کا اعلان کیا ہے . شاہ پور کنڈی بیراج کی تکمیل کے بعد تقریباً 1,150 کیوسکس پانی روک لیا جائے گا جو پاکستان کو جاتا تھا . یہ اقدام گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے تناظر میں کیا گیا ہے .